سینئر صحافی حامد میر کا جنرل پاشا کے حوالے سے اہم انکشاف اور دعویٰ

سینئر صحافی کالم نگار حامد میر نے اے آر وائی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان وسیم بادامی کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے سابق سربراہ آئی ایس آئی جنرل پاشا کے حوالے سے اہم انکشاف کیا اور بڑا دعویٰ بھی کر دیا پروگرام میں دی نیشن کے ایڈیٹر اور سینئر صحافی سلیم بخاری اور ایکسپریس گروپ کے ایاز خان بھی شریک ہے گفتگو تھے ان دونوں نے بھی حامد میر کی باتوں کی تائید کی۔



حامد میر سمیت تینوں مہمانوں سے صدارتی نظام کے حوالے سے مختلف سوالات کیے گئے جن پر حامد میر نے موقف اختیار کیا کہ صدارتی نظام کی بحث کس نے چھیڑی ہے اور یہ کہاں سے معاملہ چھڑا ہے اسے چھیڑنے والے کھل کر سامنے نہیں آتے لیکن میں آپ کو کھل کر بتاتا ہوں کہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں جنرل پاشا نے مجھے ملاقات کے لئے بلایا ہے میں سمجھا سیکیورٹی اور دہشتگردی کے حوالے سے کچھ بتائیں گے لیکن انہوں نے ملاقات میں سیدھا ہی یہ کہا کہ پاکستان اور پارلیمانی نظام ایک ساتھ نہیں چل سکتے ۔مسلے کا حل صدارتی نظام ہے اس سلسلے میں آپ ہماری مدد کریں۔
مجھے ان کی بات سے اختلاف تھا لہذا میں نے کھل کر اختلاف کیا اور ماضی کے صدارتی نظام کے تجربات کا حوالہ دیا میں نے اسے کہا کہ یہ آپ کا معاملہ نہیں ہے آپ خود کو اس معاملے سے دور رکھے ہیں ملک میں صدر زرداری سے اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی تھے منتخب جمہوری حکومت تھی اور این موجود تھا لہذا میں نے اپنی رائے دی اور میرا ان سے سخت جملوں کا تبادلہ ہو گیا اس کے بعد سب جانتے ہیں کہ مجھ پر ملک دشمنی سمیت غداری اور نہ جانے کیا کیا الزامات لگائے جاتے رہے۔




حامد میر نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ میرا دعویٰ ہے کہ کوئی جتنی چاہے کوشش کر لے پاکستان میں صدارتی نظام نہیں لایا جاسکتا سیاسی اور آئینی طور پر اس کی گنجائش نظر نہیں آتی ہاں البتہ ایک طریقہ ہے کہ آپ گن پوائنٹ پر صدارتی نظام نافذ کر دیں۔ سلیم بخاری اور ایاز خان نے بھی حامد میر کی اکثر باتوں سے اتفاق کیا میزبان کے مختلف سوالوں پر مہمانوں نے یہ رائے دی کہ صدارتی نظام کی بحث بے وقت کی راگنی ہی ہے کیونکہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اس قسم کی بحث کی جاتی ہے.



اپنا تبصرہ بھیجیں