بلد یہ عظمی کر اچی میں محکمہ ایچ آ ر ایم کی سستی کا ہلی ۔ نا قص حکمت عملی اور ایک افسر کی اجارہ داری کے با عث سینکڑوں ملا زمین کے گھر وں کے چولہے ٹھنڈے پڑگئے

کراچی (اسٹاف رپورٹر) بلد یہ عظمی کر اچی میں محکمہ ایچ آ ر ایم کی سستی کاہلی ناقص حکمت عملی اور ایک افسر کی اجارہ داری کے با عث سینکڑوں ملازمین کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑگئے انتہائی طاقت ور ترین افسر تسنیم احمد نے مئیر کراچی وسیم اختر کے احکامات کو بھی نظر انداز کر دیا تمام تر صورتحال میں نو سے زائد ملا زمین اپنے دفتری فرا ئض انجام دینے کے باوجود تنخواہوں سے محروم ہیں تفصیلا ت کے مطابق میئر کراچی وسیم اختر نے جولائی دو ہزار اٹھارہ میں اعلان کیا تھا کہ جو ملازمین کنٹریکٹ پر ہیں ان کو مستقل کر دیا جائے جس پر یہ ذمہ داری محکمہ ایچ آر ایم کو دی گئی لیکن سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم تسنیم احمد جن کے با رے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ انتہائی بااثر افسر تصور کئے جاتے ہے تحقیقاتی اداروں کا نام لے کر افسران کو سنگین دھمکیاں دیتے ہیں انہو ں نے اپنا ایک گروپ تشکیل دیا جس نے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کر نے کی کاغذی کا روائی شروع کی جو سات ماہ گزر نے کے باجود تا حال پوری نہیں ہوسکی زرائع کا کہنا ہے ساڑھے سات عارضی ملازمین کو مستقل کرنا تھا اور ڈیڑھ سو ملازمین جن کی عمرحدسے زیادہ ہونے کی وجہ سے کنٹریکٹر کی تجدید کی گئی تھی لیکن زرائع کا کہنا ہے کہ یہ نوسو سے زائد ملا زمین سات ماہ سے صرف ایک افسر تسنیم احمد کی وجہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ زرائع نے بتا یا کہ مئیر کراچی وسیم اختر مسلسل ہدایت جا ری کررہے ہیں کہ ان ملازمین کے کاغذی کاروائی مکمل کرکے تنخواہیں جاری کی جائے لیکن تسنیم احمد نے مئیر کراچی کے تمام احکامات ہوا میں اڑا دئیے ہیں جس کی وجہ سے سینکڑوں کی تعداد میں ملازمین در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ تسنیم احمد کی غیر زمہ داری کی وجہ سے مستقل کیے گئے سینکڑوں ملازمین کا تاحال میڈیکل تک نہیں ہوسکا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ میڈیکل اینڈ ہیلتھ کی جانب سے متعدد مرتبہ محکمہ ایچ آر ایم مستقل کیے گئے ملازمین کی فہرستیں مانگی جاچکی ہیں تاہم محکمہ ایچ آر ایم ملازمین کی فہرست بھیجنے میں ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے ذرائع کا کہنا ہے کسی بھی ملازم کو میڈیکل چیک اپ نہیں ہوجاتا تنخواہ نہیں مل سکتی زرائع نے بتایا کہ کے ایم سی کے سینئر افسر ان نے انکشاف کیا ہے کہ تسنیہم احمد نے کنٹریکٹ سے مستقل کرنے کے معاملے میں بڑے پیمانے پرمبینہ رشوت کا بازار گرم کیا ہوا ہے اسی وجہ سے تاخیر کی جارہی ہے زرائع نے بتایا کہ اس حوالے سے تحققیاتی ادارے تفتیش کررہے ہیں کیونکہ کچھ ملازمین ئے تحقیقاتی اداروں کو مبینہ کرپشن کے ثبوت فراہم کئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں