قومی احتساب بیورو (نیب ) کا کراچی بلدیہ عظمی کراچی کے تحت شہر میں 25 ارب روپے کے ترقیاتی کاموں میں سنگین بےقائدگیوں کی تحقیقات کا دائرہ وسیع

کراچی(اسٹاف رپورٹر) قومی احتساب بیورو (نیب )کراچی نے بلدیہ عظمی کراچی کے تحت شہر میں 25 ارب روپے کے ترقیاتی کاموں میں سنگین بےقائدگیوں کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے سابق سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی اور موجودہ بلدیہ عظمی کراچی میں تعینات افسران  اور کالعدم (ڈیولو) محکموں کے 6 ایکس ای این سے تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے باخبر زرائع کے مطابق 2010سے لیکر 2016 تک بلدیہ عظمی کراچی کے تحت ترقیاتی کاموں سمیت ہر قسم کی خریداری اور اخراجات کی تحقیقات کا آغاز کیا جائے کا اس مقصد کے لیے کےایم سی (سابقہ سی ڈی جی کے) میں 2010 سے لیکر 2016 تک تعینات ایڈمنسٹریٹر ،مشیر مالیات، ای ڈی او ورکس اینڈ سروسزو ڈی جی انجینئرنگ اور انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے اکاوونٹس افسران سے پوچھ گچھ کی جائے گی زرائع کے مطابق آج بروز جمعرات کے ایم سی انجینئرنگ برانچ کے افسران نیب میں پیش ہونگے اس سے قبل گزشتہ روزکےایم سی میونسپل سروسز کے افسران پیش ہوئے تھے واضح رہے کہ نیب سندھ نے ترقیاتی منسوبوں میں شدید بے ضابطگیوں کی درخواست پر تحقیقات کا آغاز کیا تھا زرائع کے مطابق پہلے مرحلے پر میئر کراچی وسیم اختر کے دور میں ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے جانے والے ڈھائی ارب کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور بعض اہم انکشافات کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے سابقہ ایڈمنسٹریٹر کے ادوار کے اخراجات پر کے ایم سی کے تمام محکموں کی جانب سے خرید و فروخت سمیت ہر قسم کے اخراجات کی تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے واضح رہے کہ 2010تا 2016 تک سی ڈی جی کے اور کے ایم سی میں ثاقب سومرو، روئف اختر فاروقی، سجاد عباسی اور لیق احمد نے بحثیت ایڈمنسٹریٹر فرائض انجام دیے ہیں۔ ان میں سے ثاقب سومرو بیرون ملک جبکہ روف اختر فاروقی کے پی ٹی میں بھرتیوں کے الزام میں زیر حراست ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں