ناراضگی اور غصے کی حالت میں اسمبلی توڑنے سے روکنے کے لیے وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے پر غور

اسد عمر کو وزارت خزانہ سے الگ کرنے اور کابینہ میں ردوبدل کے باوجود سیاسی اور غیر سیاسی دباؤ میں کمی نہ آنے ۔پارٹی کے اندرونی اختلافات میں اضافہ۔ میڈیا میں بڑھتی ہوئی تنقید اور روز بروز بڑھتی ہوئی معاشی ابتری نے وزیراعظم عمران خان کو پریشان کردیا ہے وہ غصے میں بھی ہیں اور ناراض بھی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی حکومت کی تین اہم وزارتیں ہوتی ہیں خارجہ، داخلہ اور خزانہ۔ اس وقت تینوں وزارتوں پر عمران خان کا براہ راست عمل دخل نہیں رہا ۔جسے وہ وزیر خزانہ بنا کر لائے تھے اسے ہٹانا پڑا ۔وزارت داخلہ شروع دن سے انہوں نے اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا تھا وہ فیصلہ واپس لینا پڑا ۔وزیر خارجہ کو وہ اپنے ہمراہ ایران لے جا نہیں سکے ۔وہاں جاکر جاپان اور جرمنی کی باتیں تو اپنی جگہ مذاق بنی پاکستان کی سرزمین ایران کے خلاف دہشتگردی کے لئے استعمال ہونے کی بات کرکے نیا طوفان کھڑا کردیا۔




اسلام آباد کے سینئر سیاسی مبصرین کا خیال ہے کے وزیراعظم عمران خان اس وقت سخت ذہنی دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں ان کی طبیعت میں غصہ اور ناراضگی کی جھلک نمایاں ہے اگر اس میں کمی نہ آئی اور انہیں حکومتی معاملات میں بہتری کی کوئی صورت نظر نہ آئی وہ شدید رد عمل کے طور پر اسمبلی توڑنے کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں ۔۔۔اسمبلی توڑے جانے کی صورت میں ملک نئے سیاسی بحران سے دوچار ہوسکتا ہے اور نئے الیکشن کرانے پڑیں گے جس کا ملک فلحال معاشی اور سیاسی طور پر متحمل نہیں ہوسکتا۔وزیراعظم کو اسمبلی توڑنے سے روکنے کا ایک طریقہ ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا ہے جس پر اپوزیشن سمیت فیصلہ ساز ہلکے غور کر رہے ہیں اگر حالات ایسے ہو گئے کہ یہ سمجھا جانے لگا کہ وزیراعظم انتہائی قدم اٹھانے جا رہے ہیں تو فوری طور پر تحریک عدم اعتماد ٹیبل کر دی جائے گی جس کا دوسرا مطلب یہ ہوگا کہ وزیراعظم اس صورت میں اسمبلی توڑ نہیں سکیں گے اور ایوان برقرار رہے گا ایسی صورتحال میں دو راستے سامنے ہوں گے یا تو وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لے کر کامیاب رہے یا ان کی جگہ کوئی دوسرا وزیر اعظم منتخب ہو جائے عمران خان کے بغیر پی ٹی آئی کی حکومت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا لہذا وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا دوسرا مطلب یہ لیا جارہا ہے کہ پھر گیند مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی کوٹ میں آجائے گی میاں شہباز شریف ان ہاؤس تبدیلی کے ذریعے اگلے وزیراعظم بننے کے مضبوط ترین امیدوار ہوں گے جبکہ پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے لئے کوشش کرے گی ۔سیاسی مبصرین کے مطابق میاں شہباز شریف کے معاملات بڑی تیزی سے بااثر قوتوں کے ساتھ بہتر ہو رہے ہیں اس لیے پی ٹی ائی حکومت کی صفوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے اور شہباز شریف کے خلاف پکڑ دھکڑ مقدمے بازی اہل خانہ کو نوٹس اہلیہ اور بیٹیوں کے خلاف تحقیقات جیسے معاملات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی دباؤ کا شکار ہو چکی ہے اور ہر صورت میں شہبازشریف اور حمزہ کو گرفتار کر کے ان کی سیاسی پیش قدمی روکنا چاہتی ہے۔ ان حالات میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی اقسام زیادی مریم نواز صورت حال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں.




ان کے سیاسی رابطے بھی بڑھ گئے ہیں سابق صدر آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن اس صورتحال میں جوڑ توڑ میں مصروف ہیں سیاسی مبصرین کے مطابق اگر وزیراعظم کے لئے شہبازشریف کی کوششیں رنگ لے آئیں تو چوہدری نثار علی خان اور مخدوم احمد محمود بھی ان کے ساتھ پنجاب میں بالترتیب وزیراعلیٰ اور گورنر بنیں گے جبکہ بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر کا کردار سنبھالیں گے اس کھیل میں چوہدری پرویز الہی پنجاب کی وزارتیں آلہ حاصل کرنے کے لیے اپنے داؤ کھیل رہے ہیں کسی موقع پر اگر چوہدری نثار اور چودھری پرویز کے درمیان میچ ٹائی ہوگیا تو منظور وٹو وزارت اعلی پنجاب کی دوڑ میں نمایاں ہوجائیں گے ۔سیاسی مبصرین کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے دو اقدامات مقتدر حلقوں میں سکیورٹی رسک کے طور پر زیر غور ہیں پہلا اقدام غیر ملکی میڈیا کو وہ انٹرویو ہے جس میں جہادیوں اور کالعدم تنظیموں کو پالنے کی بات کی گئی اور دوسرا اقدام ایران میں بیٹھ کر پاکستان کی سرزمین ایران کے خلاف دہشت گردوں کے استعمال میں رہنے سے متعلق ہے ماضی میں کم و بیش ایسی ہی باتیں ماضی کے حکمرانوں کے لئے اتنی مشکلات پیدا کر چکی ہیں کہ انہیں بالآخر اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا ۔نواز شریف کے خلاف ڈان لیکس کا معاملہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان بجٹ سے پہلے یا بجٹ کے بعد۔ اپنے لیے کیا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں اگلے مہینے ان کا دورہ چین انتہائی اہمیت کا حامل اور فیصلہ کن قرار دیا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں