کیا امریکہ عافیہ صدیقی کے بدلے شکیل آفریدی کو مانگ رہا ہے؟

وزارت خارجہ پاکستان کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے یہ بیان دے کر نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ امریکہ میں زیرحراست ڈاکٹر عافیہ صدیقی پاکستان واپس نہیں آنا چاہتی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کو وزیراعظم عمران خان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مستقبل میں کسی بھی ملاقات سے مشروط کر دیا ہے اور کہا ہے کہ مستقبل میں دونوں ملکوں کے رہنما ملاقات کریں تو ممکن ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی واپسی ہو سکے۔
دوسری جانب ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ نے دفتر خارجہ کے ترجمان کے اس بیان کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ اگر کوئی کہتا ہے کہ عافیہ خود پاکستان واپس نہیں آنا چاہتی تو یہ بیان قطعی سچ پر مبنی نہیں ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ہیوسٹن میں کونسلیٹ آفس نے گزشتہ ماہ ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کی تھی۔

 


ڈاکٹر محمد فیصل ترجمان وزارت خارجہ پاکستان

 

مزید کہا کہ ایک وقت ایسا لگا تھا کہ جیسے وہ کسی بھی لمحے پاکستان واپس آجائیں گی اور حکومت نے متعدد مرتبہ اطمینان دلایا کہ امریکی حکام سے عافیہ کی واپسی سے متعلق مذاکرات جاری ہیں ایسی خبریں تھیں کہ رواں برس جنوری یا مارچ میں عافیہ واپس آجائیں گی لیکن اب مکمل خاموشی چھا چکی ہے ڈاکٹر فوزیہ نے بتایا میری عافیہ سے فون پر بات ہوچکی انھوں نے کہا تھا کہ وہ جیل سے نکلنے کے لیے کسی بھی نوعیت کے کاغذات پر دستخط کرنے کو تیار ہیں یاد رہے کہ گذشتہ سال ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے مذکورہ معاملے کو امریکہ کے ساتھ زیر بحث لانے کی درخواست کی تھی جس پر وزیر خارجہ نے یقین دلایا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کی واپسی کا مسئلہ زیر غور ہے ہیوسٹن میں پاکستانی قونصل جنرل عائشہ فاروقی نے ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات بھی کی تھی اور امریکہ پر زور دیا تھا کہ وہ زیرحراست ڈاکٹر عافیہ کے انسانی اور قانونی حقوق کا خیال رکھے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہری عافیہ صدیقی کی کہانی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے جڑی کہانیوں میں بہت اہمیت کی حامل ہے جو مارچ 2003 میں اس وقت شروع ہوئی جب القاعدہ کے نمبر 3 اور نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ میں سے ایک خالد شیخ محمد کو کراچی سے گرفتار کیا گیا خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد مبینہ طور پر 2003 میں ہی عافیہ صدیقی اپنے تین بچوں کے ہمراہ کراچی سے لاپتہ ہوگئیں

 


ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

 


بعض اطلاعات کے مطابق انہیں اسلام آباد سے اغوا کرکے افغانستان پہنچایا گیا جبکہ عافیہ صدیقی کو لاپتہ ہونے کے پانچ سال بعد امریکہ کی جانب سے 2008 میں افغان صوبے غزنی سے گرفتار کرنے کا دعویٰ سامنے آیا امریکی عدالتی دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عافیہ صدیقی کے پاس دو کلو سوڈیم سائینائٹ کیمیائی ہتھیاروں کی دستاویزات اور دیگر چیزیں برآمد ہوئیں تھیں جن سے عندیہ ملتا تھا کہ وہ امریکی فوجیوں پر حملہ کی منصوبہ بندی کررہی ہیں جو آفیہ صدیقی سے امریکی فوجی اور ایف بی آئی عہدیداروں نے سوالات کی ہے تو انہوں نے مبینہ طور پر ایک رائفل اٹھا کر ان پر فائرنگ کردی جوابی فائرنگ میں وہ زخمی ہوگئیں جس کے بعد انہیں امریکہ منتقل کردیا گیا جہاں 2010 میں انہیں ایک دام میں قتل کا مجرم قرار دے کر 86سال قید کی سزا سنائی گئی تھی ۔





پاکستان میں یہ خبریں تواتر سے زیر بحث آتی رہی ہیں کہ کیا امریکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے اسامہ بن لادن تک رسائی حاصل کرنے میں امریکہ کی مدد کرنے والے پاکستان میں زیر حراست شکیل آفریدی کی رہائی اور امریکہ منتقلی چاہتا ہے اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر بننے سے پہلے اعلان کر رکھا تھا کہ وہ شکیل آفریدی کو امریکہ لے کر جائیں گے اب پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ شکیل آفریدی کے بدلے عافیہ صدیقی کا تبادلہ زیر بحث آ سکتا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں