قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کے سابق اور موجودہ وزیراعظم کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر اعظم مودی کا چرچا

پاکستان کی قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے اراکین نے اپنی تقریر کے دوران پاکستان کے موجودہ اور سابق وزیراعظم سمیت بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر بھی کھل کر بات کی۔ اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ جب کوئی وزیر اعظم منتخب ہو جاتا ہے تو اسے دوسرے ملکوں کے حکمرانوں کے ساتھ بات چیت کرنا پڑتی ہے بات چیت کرنے سے کوئی ملک دشمن یا غدار نہیں ہو جاتا لیکن ہمارے ملک میں ماضی کے حکمرانوں کے ساتھ ایسا کیا گیا ان پر مودی کے یار مودی کے یار کا بار بار الزام لگایا گیا ۔یہ عجیب بات ہے کہ اگر کوئی اپنا ملک درست کرنے کی بات کرے تو اسے ملک دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔




اگر کوئی ان تنظیموں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت ایکشن نہ لینے پر سوال اٹھائے اور اپنا گھر صحیح کرنے کی بات کرے تو اسے ملک دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔ جو لوگ کل تک اپنے اوپر آنوں کو مودی کا یار کا طعنہ دے کر ملک دشمن قرار دے رہے تھے جب خود اقتدار میں آئے تو انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر مودی جیت گیا تو مسئلہ کشمیر حل ہوجائے گا ۔حکومتی ارکان نے وزیراعظم عمران خان کے حالیہ بیانات کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے اپوزیشن کی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔قومی اسمبلی کا اجلاس زیادہ تر وقت ہنگامہ آرائی کی نظر آرہا لیکن چند تقریر بہت یادگار رہی جو یہاں پیش کی جارہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں