نواز شریف کی خاموشی کا سفر لندن جاکر ختم ہوگا

سابق وزیراعظم نواز شریف نے جیل سے رہائی کے باوجود خاموشی اختیار کر رکھی ہے مولانا فضل الرحمن کے علاوہ انہوں نے سیاسی ملاقاتیں بھی بند کر رکھی ہیں پارٹی کے معاملات میں بھی بظاہر کوئی عمل دخل نہیں رہا ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف بھی اپنے والد کی طرح خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اکا دکا ٹوئیٹ کے علاوہ انہوں نے سیاسی سرگرمی ترک کر رکھی ہے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے سیاسی معاملات شہبازشریف کے سپرد کر دیے ہیں شہباز شریف لندن میں بیٹھ کر سیاسی رابطوں میں مصروف ہیں اور مستقبل میں شریف خاندان اور مسلم لیگ نون کے لیے بہتر اور فائدہ مند راستہ تلاش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں شہباز شریف سمجھتے ہیں کہ ان کا سیاسی کیریئر ختم نہیں ہوا اور وہ برسرِاقتدار آنے کے لیے قسمت آزما رہے ہیں جبکہ نواز شریف کو سیاسی طور پر خاموشی اختیار کرنے سے ان کے خاندان اور پارٹی کا بھلا ہو سکتا ہے جس طرح مشرف کے دور میں نواز شریف نے کئی برس تک سعودی عرب میں بیٹھ کر کوئی سیاسی سرگرمی نہیں دکھائی تھی اور بے نظیر بھٹو سے ملاقات کے بعد لندن جاکر میثاق جمہوریت پر دستخط کیے تھے اور پھر لندن سے پاکستان میں ان کی سیاسی واپسی عمل میں آئی تھی بالکل اسی طرح نواشریف ایک مرتبہ پھر سیاسی خاموشی کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں




ان کی چھ مہینے کے لیے ضمانت ہوئی ہے جس کی بنیاد ان کا علاج ہے طبی بنیادوں پر ان کی رہائی ان کی سیاسی خاموشی سے مشروط بتائی جاتی ہے اس لئے نواز شریف اور مریم دونوں کا رویہ انتہائی محتاط ہے اور زبان پر تالے لگے ہوئے ہیں سیاسی مبصرین سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کی خاموشی کا سفر ایک مرتبہ پھر لندن پہنچ کر ختم ہوگا ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی اور سیاسی صورتحال نواز شریف کے سیاسی مستقبل کے لیے فائدہ مند ہوگی جو جو عمران خان کی حکومت معاشی اور سیاسی طور پر دباؤ کا شکار ہوگئی اس کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوگا ویسے ویسے نواز شریف کے لئے موجودہ مشکلات میں کمی آئے گی اور ان کے لئے آنے والے دنوں میں ہی گھر میں آسانی اور بہتری کے آثار واضح ہوتے جائیں گے اس کا انحصار ان کی صحت کے معاملات پر رہے گا ۔ نواز شریف کی سیاست میں دلچسپی کا واحد سبب اب ان کی صاحبزادی مریم نواز ہیں خود نواز شریف اور مریم اس وقت سے سخت پریشان غمزدہ ہیں جب سے کلثوم نواز کا انتقال ہوا ہے نواز شریف اپنی اہلیہ کے انتقال کے بعد اکیلے رہ گئے ہیں مریم ان کا سب سے بڑا سہارا ہے نواز شریف جلد یا بدیر برطانیہ جائیں گے اور کچھ عرصہ لندن میں رکھیں گے چاہے یہ سفر علاج کی غرض سے ہو یا اس کا کوئی بھی حصہ بنے ان کی اگلی منزل لندن بتائی جاتی ہے جس کے لیے لندن میں پہلے سے موجود شہباز شریف اور اسحاق ڈار کوششیں کر رہے ہیں نواز شریف کے اپنے بیٹے بھی لندن میں ہیں سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ مریم مستقبل میں شریف خاندان اور مسلم لیگ نون کی سیاسی لیڈر ہونگی لیکن اس سے پہلے شہباز شریف اور حمزہ شریف اپنی اننگ کھیلنے کی پوری تیاری کر رہے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں