کپتان کی حکومت ڈگمگا رہی ہے وزراء صفائیاں دینے پر مجبور

شدید اقتصادی اور معاشی مشکلات میں گھری ہوئی حکومت سیاسی دباؤ کا شکار نظر آرہی ہے الفاظ حکومتی شخصیات کا ساتھ نہیں دے رہے خود  وزیراعظم عمران خان بولنا کچھ چاہتے ہیں اور بول کچھ اور جاتے ہیں ایران کے دورے میں انہوں نے جرمنی اور جاپان کی سرحدوں سے لے کر دہشت گردی کے حوالے سے پاکستانی سرزمین کے استعمال تک جو کچھ بولا اس پر قومی اسمبلی کے اندر بھی طوفان برپا ہے اور میڈیا پر بھی ۔اس صورتحال پر پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں اور وفاقی وزرا اور دیگر عہدیداروں کو صفائیاں پیش کرنی پڑ رہی ہیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وضاحت کی ہے پاکستان تحریک انصاف میں نعتوں شاہ محمود قریشی گروپ ہے نہ جہانگیرترین گروپ۔ اسی طرح گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔ نہ میں اصل پہ دے رہا ہوں نہ حکومت کہیں جا رہی ہے ۔صوبہ وزیراعلیٰ عثمان بوزدار ہی چلا رہے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انہیں شہباز شریف جیسے اختیارات حاصل ہیں۔




ہم سب عمران خان کی قیادت میں پانچ سال عوام کی خدمت کریں گے۔ دوسری جانب سیاسی مبصرین بتارہے ہیں پارٹی کے اندرونی حالات اچھے نہیں ہیں بنی گالہ میں وزیراعظم عمران خان نے کورکمیٹی کا جو اہم اجلاس بلایا اس میں کئی اہم وزرا شریک نہیں ہوئے اسد عمر پرویز خٹک غلام سرور اور فواد چوہدری سمیت پارٹی کے اندر کہیں لوگ ناراض ہیں انہیں وہ توجہ اور اہمیت نہیں مل رہی جس کی وہ توقع رکھتے ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ملک میں صدارتی نظام نافذ کرنے کی افواہوں کی بھی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان میں صدارتی نظام کا کوئی امکان نہیں ہے۔ دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری حکومت پر تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ کپتان نے اپنی کابینہ کے وزراء کو اس لئے عہدوں سے ہٹایا کہ ان کی کارکردگی اچھی نہیں رہی یہ نا اہلی کو تسلیم کرنے کا ثبوت ہے جب ہم کہہ رہے تھے یہ حکومت نااہل ہے تو یہ نہیں مانتے تھے اب یہ خود اپنے وزیر خزانہ کو ہٹا کر آصف علی زرداری کے دور کے وزیر خزانہ کو لے کر آئے ہیں مولانا فضل الرحمن نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وزیر داخلہ خود وزیراعظم تھے انہوں نے نیا وزیر داخلہ لاکر ثابت کردیا کہ بطور وزیر داخلہ وہ ناکام رہے جب دوسرے وزراء کو ناکامی پر ہٹایا ہے تو خود بھی استعفی دیں۔ پیپلزپارٹی کے اکثر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آپ ٹیم میں تبدیلیوں سے حالات بہتر نہیں ہونگے کپتان بدلنے کا وقت آگیا ہے اگر وہ ذرا پیپلزپارٹی کے لینے ہیں تو بہتر ہوگا وزیراعظم بھی پیپلزپارٹی سے لے لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں