گورکھ ہل اتھارٹی کے اربوں روپے کہاں خرچ ہوئے ۔ نیب کی تحقیقات میں تیزی

گورکھ ہل اتھارٹی کے اربوں روپے کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر کرپشن کے الزامات کی نیب تحقیقات میں تیزی آگئی ہے سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی اور اتھارٹی کے چیئرمین ممبر قومی اسمبلی رفیق جمالی کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکے من پسند ٹھیکیداروں کو دے کر حاصل ہونے والی رقم منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک بھیجنے کے الزامات کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے نیب حکام نے اتھارٹی کے متعلقہ افسران سے اہم ریکارڈ طلب کرلیا ہے نیب گزشتہ 10 سال کے دوران 2008 سے 2018 تک ہونے والی ڈویلپمنٹ اسکیموں پر جو رقم خرچ کی گئی اس کی تحقیقات کر رہی ہے کہ یہ پیسے کہا کہ اس مد میں خرچ کیے گئے یاد رہے کہ گورکھ ہل صوبہ سندھ کا ایک انتہائی بلند اور صحت افزا سیاحتی مقام ہے جس کا مقابلہ کو ہ مری سے کیا جاسکتا ہے




یہاں موسم سارا سال خوشگوار اور ٹھنڈا رہتا ہے حکومت سندھ نے اس مقام کو بہترین سیاحتی اسپورٹ بنانے کے لیے گورک ہل اتھارٹی قائم کی تھی تاکہ یہاں تک پہنچنے کے راستوں کو بہتر کیا جائے اور یہاں پہنچنے والوں کو بہترین تفریحی سہولیات میسر آسکیں ۔نیب نے اپنی تحقیقات کے دوران سب انجینئر اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور سابق اکاؤنٹنٹ سمیت مختلف ملازمین کے بیانات قلمبند کرکے اب تک خرچ ہونے والی رقوم کی تفصیلات حاصل کی ہیں ۔آنے والے دنوں میں اہم انکشافات اور بعض گرفتاریاں متوقع ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں