آغا سراج درانی نیب پر بھاری ۔ ہائیکورٹ نے نیب کو چار ہفتے کی مہلت دے دی

اسپیکر سندھ اسمبلی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنما آغا سراج خان درانی نیب کے لیے بھاری ثابت ہو رہے ہیں ۔ قومی احتساب بیورو نے انہیں اسلام آباد سے گرفتار کیا اور پھر کراچی لا کر پوچھ گچھ کا عمل آگے بڑھایا ان کے گھر پر چھاپہ بھی مارا گیا اور اہم دستاویزات اور ریکارڈ قبضے میں لیا گیا لیکن وہ سندھ اسمبلی کے منتخب سپیکر ہیں اس لیے انہیں اجلاس کی صدارت کے لیے سندھ اسمبلی پہنچانا پڑتا ہے پہلے وہ نیب کی حراست سے سندھ اسمبلی جایا کرتے تھے اب انہیں جیل کسٹڈی ہونے کے بعد سے جیل سے اسمبلی لایا جاتا ہے ایک اسیر اسپیکر اسمبلی میں آکر اجلاس کی صدارت کرتا ہے یہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد واقعہ ہے اجلاس کی صدارت کرنے کے بعد آغا سراج درانی واپس جیل چلے جاتے ہیں ۔آغا سراج درانی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے الزامات سمیت دیگر الزامات کی تحقیقات ہو رہی ہے۔




آغا سراج درانی نے اپنے خلاف الزامات کو سیاسی انتقامی کارروائی قرار دے رکھا ہے ان کا شمار پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں اور سابق صدر آصف علی زرداری کے بااعتماد ساتھیوں میں ہوتا ہے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو بھی ان پر گہرا اعتماد کرتی تھی آغا سراج درانی بےنظیر بھٹو کے دور میں صوبائی وزیر تھے اور ان کی حکومت کے ہاتھ میں کے بعد اس وقت بھی انہیں گرفتار کیا گیا تھا بعد میں وہ تمام الزامات سے بری ہو گئے تھے ۔ آغا سراج درانی کے بزرگوں نے پاکستان کے لیے خدمات انجام دی ہیں ان کے دادا بھی سندھ اسمبلی کے اسپیکر تھے ۔سندھ ہائی کورٹ نے نیب کو حکم دیا ہے کہ آغا سراج درانی کے خلاف جاری تحقیقات کو چار ہفتے کے اندر مکمل کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے ۔عدالت میں سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے بتایا کہ آغا سراج درانی کے قبضے میں پچیس گاڑیاں تھی جو غیر قانونی طور پر زیر استعمال رکھی تھی ۔ نیب حکام کو عدالت نے ریفرنس فائل کرنے کے لیے چار ہفتے کی مہلت دے دی ۔



اپنا تبصرہ بھیجیں