جرمنی اور جاپان کب سے پڑوسی ہوگئے؟

وزیراعظم عمران خان تہران میں کیا کہنا چاہتے تھے؟

سیاسی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ وزیراعظم عمران خان دورہ ایران کے دوران درحقیقت اس وقت کیا کہنا چاہتے تھے جب انہوں نے جرمنی اور جاپان کو پڑوسی ملک قرار دینے کی بات کی وزیراعظم عمران خان کے سیاسی مخالفین نے اس معاملے کو سوشل میڈیا پر اٹھا دیا ہے جس پر تبصروں کی بارش شروع ہوگئی پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہمارے وزیراعظم سمجھتے ہیں کہ جرمنی اور جاپان آپس میں باڈر شیئر کرتے ہیں ۔کتنی شرمندگی کی بات ہے ۔ایسا تب ہوتا ہے جب آکسفورڈ یونیورسٹی لوگوں کو صرف اس لئے آنے دیتی ہے کہ وہ کرکٹ کھیل سکتے ہیں۔




یو بلاول بھٹو زرداری نے اپنی پارٹی کے انتخابی نشان تیر کو بہت بہت ہوشیاری سے استعمال کرتے ہوئے نہ صرف وزیراعظم عمران خان پر سیاسی تنقید کر دی بلکہ آکسفورڈ یونیورسٹی پر بھی طنز کا تیر چلا دیا۔
اس پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا وزیراعظم نے یہ نہیں کہا کہ جرمنی اور جاپان پڑوسی ہیں بلکہ انہوں نے یہ کہا ہے کہ دونوں ملکوں نے اپنے پڑوسیوں سے اقتصادی رابطہ بڑھانے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔افتخار درانی نے بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ درحقیقت وزیر اعظم کے الفاظ کو سمجھ نہیں سکے۔
اس پر سینئر صحافی سید طلعت حسین نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاپان تو پیسیفک اوشن میں ایسٹ ایشیا میں ایک آئلینڈ ملک ہے اور دوسری جنگ عظیم میں بھی ان کے اتحادی ہونے کے باوجود یہی مقام تھے لیکن وزیراعظم اس کے برعکس سمجھتے ہیں اور یہی انہوں نے انٹرنیشنل سامعین کے سامنے کہاںہے ۔
سوشل میڈیا پر مختلف شخصیات نے وزیراعظم عمران خان کی وہ ویڈیو بھی اپلوڈ کردی ہے جس میں انھوں نے جرمنی اور جاپان کو پڑوسی قرار دینے کے حوالے سے بات کی ہے ۔
پر تبصرہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ دراصل وزیراعظم تہران میں جرمنی اور فرانس کے حوالے سے بات کرنا چاہ رہے تھے لیکن وہ جرمنی اور فرانس کا نام لینے کے بجائے جرمنی اور جاپان کہہ گئے۔




بھلا سیاسی مخالفین کہا کوئی موقع چھوڑتے ہیں لہذا سوشل میڈیا پر تبصرے شروع ہو گئے اور یہاں تک کہا گیا کہ سابق سٹار کرکٹر کو تاریخ اور جغرافیہ کی تعلیم دی جائے ۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے حکمرانوں سے اپنی تقریر یا پریس کانفرنسز وغیرہ میں بعض اوقات زبان پہ سجانے کی وجہ سے کسی ملک یا مقام کا نام بتانے میں اکثر غلطی ہو جاتی ہے یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کا ایشو بنایا جائے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تو ایسی متعدد غلطیاں کر چکے ہیں دنیا کے دیگر ملکوں کے حکمران اور سیاستدان بھی اس قسم کے واقعات سے دوچار ہو چکے ہیں ۔خود بلاول بھٹو زرداری کی پھوپھی انہیں شہید قرار دے چکی ہیں۔



اپنا تبصرہ بھیجیں