فردوس عاشق اعوان بمقابلہ شاہ محمود قریشی

کسے معلوم تھا کہ فردوس عاشق اعوان اور شاہ محمود قریشی کو ایک مرتبہ وفاقی کابینہ میں ایک ساتھ بیٹھنا پڑے گا۔ آج سے ٹھیک آٹھ سال پہلے جب شاہ محمود قریشی نے پاکستان پیپلز پارٹی سے اپنی بیس سالہ رفاقت ختم کرتے ہوئے قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی سے استعفیٰ دیا تو 2008 کی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اس وقت سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ان کے بارے میں کہا تھا کیا آج تک جو پیپلزپارٹی میں آیا اسے عزت بھی ملی احترام بھی ملا اور جو پیپلز پارٹی چھوڑ کر آ گیا وہ دنیا اور آخرت میں ذلیل اور رسوا ہوا انہوں نے سابق صدر فاروق لغاری کا انجام بھی بتایا غلام مصطفیٰ کھر کا نام لے کر دیگر سیاسی قد کاٹھ حوالے ان تمام لوگوں کا ذکر کیا جو پیپلز پارٹی چھوڑ کر گئے اور ان کے خیال میں ذلیل و رسوا ہوئے ۔فردوس عاشق عوان کی وہ ویڈیو ان دنوں سوشل میڈیا پر دوبارہ شہرت پا چکی ہے جس میں انہوں نے شاہ محمود قریشی کی جانب سے پیپلز پارٹی پر کی جانے والی تنقید کے سخت الفاظ میں جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ شاہ محمود قریشی نے ضیاء الحق کے ساتھ اپنا سفر شروع کیا اور پھر نواز شریف سے ہوتے ہوئے اب وہ اپنی نئی منزل کی طرف بڑھ گئے ہیں پیپلزپارٹی میں جو بھی آیا اس کو احترام بھی ملا عزت نہیں ملی اور جو پیپلز پارٹی چھوڑ کر گیا وہ دنیا اور آخرت دونوں میں رسوا ہوا انہوں نے خاص طور پر سابق صدر فاروق لغاری کا نام لے کر کہا کہ ان کا انجام بھی سب یاد رکھیں ان کے علاوہ غلام مصطفی کھر کا بھی نام لیا ہے۔

یاد ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

فردوس عاشق اعوان نے کہا تھا پیپلزپارٹی ان کی تمام سازشوں سے واقف تھی لیکن وہ ان کا اصل چہرہ عوام کے سامنے لانا چاہتی تھی اگر پیپلزپارٹی ان کو الگ کرتی تو کہا جاتا کہ پیپلز پارٹی کے ایک وفادار اور بے نظیر بھٹو شہید کے ایک سپاہی کو پارٹی سے الگ کیا گیا ہے او اپنے چہرے سے نقاب اٹھا کر جب پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے سامنے آئیں گے تو پیپلز پارٹی کے کارکن خود ان کا چہرہ پہچان جائیں گے سب کو پتہ چل جائے گا کہ وہ اپنے مفاد کے لیے اپنی ذات کے لیے پارٹی کے شور پر نہیں بلکہ پورٹ فولیو کے ایشو پر صدارت سے الگ ہوئے تھے جس طرح شاہ محمود قریشی نے بھی اس پارٹی کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا اس پر کسی بھی ورکر نے ان کو ویلکم نہیں کہا بلکہ سب نے ان پر تنقید کی ہے انہوں نے کارکنوں کی دل آزاری کی ۔تاریخ گواہ ہے کہ جس نے بھی پیپلز پارٹی کو چھوڑا وہ دنیا و آخرت میں رسوا ہوا اور سیاسی اکھاڑے میں ان کا کوئی نام لینے والا بھی نہیں بچا ۔شاہ محمود قریشی نے بھی اپنی خانہ بدوشی کا سفر شروع کر دیا ہے ہم ان کے لئے دعا گو ہیں کہ وہ جہاں جائے کسی ایک جگہ پڑاؤ کرلیں مستقل طور پر۔




یاد رہے کہ پیپلز پارٹی اور قومی اسمبلی سے استعفی دیتے اور شاہ محمود قریشی نے پارٹی قیادت پر نہ صرف سخت تنقید کی تھی بلکہ یہ کہا تھا کہ اب یہ پیپلز پارٹی بھٹو کی پارٹی نہیں رہی نہ ہی یہ بے نظیر کی پارٹی ہے یہ زرداری لیگ بن چکی ہے اور یہ بھٹو کے وزن سے بہت دور چلی گئی ہے کیا محمود قریشی نے سپریم کورٹ سے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ اس بات پر سوموٹو ایکشن لیا جائے کہ بزنس مین ایجاز منصور نے صدر زرداری کے ایما پر امریکیوں کو کیا پیغام پہنچایا ہے ۔شاہ محمود قریشی کی اس وقت کی تنقید اس وقت کی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو بہت بری لگی تھی اور انہوں نے اس پر سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا۔
آج حسین اتفاق دیکھئے کہ شاہ محمود قریشی اور فردوس عاشق عوان ایک مرتبہ پھر ایک ہی لیڈر کی چھتری کے نیچے جمع ہو گئے ہیں دونوں عمران خان کی قیادت پر متفق ہیں اور پی ٹی آئی کے وزیر اور ترجمان بن چکے ہیں شاہ محمود قریشی نے تو فردوس عاشق اعوان کو پیپلز پارٹی چھوڑنے پر کچھ نہیں کہا لیکن پیپلزپارٹی کے جیالوں نے ان کی پرانی ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب تبصروں کے ساتھ مشہور کرادی ہے کہ جو پیپلز پارٹی چھوڑ کر جاتا ہے وہ دنیا اور آخرت میں رسوا ہوتا ہے اور سیاسی اکھاڑے میں اس کا کوئی نام لیوا نہیں رہتا۔
لیکن یہ کیسی رسوائی ہے کہ پیپلز پارٹی چھوڑنے کے بعد شاہ محمود قریشی تو دوبارہ وزیر خارجہ بن گئے ہیں اور فردوس عاشق اعوان بھی دوبارہ وزارت اطلاعات کا قلمدان سنبھال چکی ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ 2011 میں فردوس عاشق اعوان غلطی پر تھی انہوں نے جب یہ کہا تھا کہ پیپلز پارٹی چھوڑ کر جانے والوں کا سیاسی اکھاڑے میں کوئی نام لیوا نہیں رہتا اور وہ دنیا اور آخرت میں رسوا ہوتے ہیں سیاسی حلقوں میں اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا فردوس عاشق وان اپنی 2011 کی پریس کانفرنس میں کی گئی باتوں کو واپس لینا چاہتی ہیں یا انہیں احساس ہو گیا ہے کہ اس وقت تم نے شاہ محمود قریشی کا پیپلزپارٹی چھوڑنے پر جو سخت ردعمل دیا تھا وہ غیر ضروری تھا یا غیر حقیقی تھا ۔اگر شاہ محمود قریشی پارٹی ایشوز پر نہیں بلکہ ذاتی مفاد اور اپنی ذات کی وجہ سے الگ ہوئے تھے تو پھر فردوس عاشق اعوان کس وجہ سے الگ ہوئی تھی ۔سیاستدانوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ الیکٹرونک کا ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے جس میں ان کی کی گئی پرانی تقاریر اور پریس کانفرنسز اور انٹرویوز اچانک ان کے سامنے دوبارہ پلے کر دی جاتی ہیں اور انہیں شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے لہذا ایسی باتیں کرنے سے پہلے محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے جنہیں دوبارہ سن کر یہ دیکھ کر شرمندگی ہو۔



اپنا تبصرہ بھیجیں