ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال زیرو ہوگیا ہے عوام کو نواز شریف کے منصوبے یاد آنے لگے

پاکستانیوں کے لیے خوشخبری ہے کہ ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال زیرو ہو گیا ہے گزشتہ روز بجلی کی طلب 16020 میگا واٹ اور پیداوار 17500 میگا واٹ رہی جس کا مطلب ہے کہ ملک میں ضرورت سے زائد بجلی موجود ہے پاور ڈویژن کے ترجمان کے مطابق پاکستانیوں کو اس مرتبہ موسم گرما میں چوبیس گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی ۔
آج پاکستان میں ضرورت سے زائد بجلی موجود ہے تو اس کا سہرا بلاشبہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی حکومت کے دور میں تیزی سے شروع کیے گئے پاور پروجیکٹ کے ساتھ جاتا ہے جن کی بدولت پاکستان نہ صرف بجلی اور توانائی کے بہت بڑے بحران سے نکل آیا بلکہ آج پاکستان کو اپنی ضرورت اور طلب کے مطابق بجلی میسر پر دستیاب ہے جبکہ مزید کئی منصوبے ابھی اپنی تکمیل کی جانب گامزن ہیں جن کے مکمل ہونے کے بعد پاکستان میں سرپلس بجلی کی مقدار کئی گنا بڑھ جائے گی ۔عوام کو اب نواز شریف کے دور میں شروع کیے گئے بجلی کے منصوبے یاد آرہے ہیں اور مسلم لیگ نون کے کارکن اور ان کے حامی بار بار کہہ رہے ہیں شکریہ نواز شریف۔




دوسری جانب پی ٹی آئی کی حکومت کا کہنا ہے کہ حکومت نے بہتر مینجمنٹ کی ہے جس کی وجہ سے اب رمضان میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کو ختم کر دیا جائے گا اور صنعتوں کو بھی ضروری بجلی بھی دی جائے گی اور بیک اپ پلان بھی تیار کیا گیا ہے وزارت توانائی نے ران کیا ہے کہ رواں موسم گرما میں بہت کم مواقع پر لوڈ مینجمنٹ کرنی پڑے گی اور صارفین کو چوبیس گھنٹے بجلی فراہم رہے گی البتہ فورسز کی شکایات آتے ہیں انہیں حل کرنے پر کام کیا جائے گا لیکن صارفین کو بجلی کے استعمال میں احتیاط برتنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے بجلی بچانے اور غیر ضروری استعمال سے گریز کرنے کی اپیل بھی کی جارہی ہے۔


یاد رہے کہ 2008 میں جب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو ملک میں توانائی کا شدید بحران تھا اور کئی کئی گھنٹوں تک ملک میں کئی شہروں میں بجلی نہیں ہوتی تھی جس کی وجہ سے رینٹل پاور پلانٹس لگانے کا فیصلہ ہوا لیکن اس وقت کے وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف کے بعد میں وزیراعظم بھی بنے تھے وہ بجلی فراہم کرنے کے اعلانات دعوے اور وعدے پورے نہیں کر سکے تھے بعد میں ان پر کرپشن کے الزامات لگے اور وہ ابھی تک رینٹل پاور پلانٹس کے ایک کیسز میں صفائیاں پیش کرتے ہیں جب 2013 میں مسلم لیگ نون کی حکومت بنی تب بھی ملک میں سب سے بڑے مسائل میں امن امان اور توانائی کا بحران سر اٹھائے کھڑا تھا جبکہ کمزور معیشت بڑا مسئلہ تھا ۔2018 میں جو پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت قائم ہوئی تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے برعکس کو صحت توانائی کے بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ پچھلے ادوار میں بجلی کی فراہمی کے منصوبوں پر کام کیا گیا تھا اور ان کے نتائج سامنے آ چکے تھے اور مزید نتائج سامنے آرہے ہیں اس لیے موجودہ حکومت اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اسے ملک میں توانائی کے بحران کا سامنا نہیں ہے ۔اور وہ اپنی توجہ دیگر ترقیاتی منصوبوں پر مرکوز کر سکتی ہے اور عوام کو چوبیس گھنٹے بجلی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انڈسٹری کو وافر مقدار میں بجلی دے سکتی ہے جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں ۔