چوہدری نثار علی خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے لیے شہباز شریف سے مدد مانگ لی

مسلم لیگ نون کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کا لندن مشن اب اپنے رنگ دکھانے لگا ہے بظاہر وہ علاج کیلئے لندن میں رکھے ہوئے ہیں پاکستان سے برطانیہ جاتے وقت انہوں نے بتایا تھا کہ وہ اپنے دونوں بیٹوں کی اولاد کو ملنے جا رہے ہیں لیکن اب لندن میں ان کے اپنے چیک بھی شروع ہوگئے ہیں دوسری طرف سیاسی حلقوں میں یہ اطلاعات باز گشت کر رہی ہیں کے شہباز شریف لندن میں سیاسی رابطوں میں مصروف ہیں سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور سابق نگران وزیراعظم چودھری شجاعت حسین سمیت سابق گورنر پنجاب مخدوم محمود سے بھی ان کے رابطے ہوئے ہیں بظاہر سیاست دانوں کا آپس میں ایک دوسرے کی خیریت معلوم کرنا یا ایک دوسرے کے اہل خانہ کی خیریت معلوم کرنے کے لئے رابطہ کرنا کوئی بڑی بات نہیں کیوں کہ سیاستدانوں کی لڑائیاں ذاتی نہیں بلکہ سیاسی اختلافات ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فاصلوں کو سمیٹ کر ملاقاتوں اور رابطوں کا سامان پیدا کر دیتے ہیں ماضی میں شہبازشریف اور چوہدری نثار علی خان ایک پیج پر رہ کر سیاست کرتے رہے ہیں جب نواز شریف وزیراعظم تھے تب بھی شہبازشریف اور چوہدری نثار علی خان ایک ساتھ راولپنڈی جاکر اہم ملاقاتیں کیا کرتے تھے اور بگڑے ہوئے معاملات کو بہتر کرنے اور سدھارنے کے لیے اپنی کوششیں کرتے تھے اب اطلاعات ہیں کہ چوہدری نثار علی خان نے وزارت اعلیٰ پنجاب پر اپنی نگاہیں جما رکھی ہیں اس میں آنے کے انتظار کے بعد بالآخر انہوں نے پنجاب اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھانے کا فیصلہ کرلیا ہے اوروزارت اعلیٰ حاصل کرنے کے لیے انہوں نے شہباز شریف سے سیاسی مدد مانگ لی ہے چوہدری نثار علی خان نے جولائی 2018 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ نون کے ٹکٹ کی بجائے آزاد امیدوار کی حیثیت سے جیپ کے نشان پرالیکشن لڑا اور جیتا پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے لیکن انہوں نے حلف نہیں اٹھایا تھا پنجاب میں وزیر اعلی عثمان بزدار کی کارکردگی پر سوالیہ نشانات لگائے جانے کے بعد چوہدری نثار علی خان سیاسی میدان میں مضبوط امیدوار کی حیثیت سے سامنے آئے ماضی میں بھی یہ باتیں ہوتی رہیں کہ چوہدری نثار علی خان پنجاب میں حکومت کرنا چاہتے ہیں لیکن اس وقت شہباز شریف وزیر اعلیٰ تھے اس لئے سمجھا جاتا تھا کہ اگر شہباز شریف وفاق میں چلے جائیں وفاقی وزیر بن جائیں یا وزارت عظمیٰ کے امیدوار بن جائیں تو چوہدری نثار پنجاب میں وزارت اعلیٰ حاصل کر سکتے ہیں اب سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا چوہدری نثار علی خان صرف شہباز شریف کی مدد سے وزارت اعلیٰ حاصل کر سکتے ہیں بظاہر یہ آسان نہیں۔ نمبرز گیم میں چوہدری نثار علی خان کو مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی دونوں کی حمایت درکار ہوگی یا دونوں کی طرف سے مطلوبہ تعداد میں ارکان کی حمایت درکار ہوگی. وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے تو ٹی وی پروگرام میں انکار کیا ہے کہ ہم کیوں حمایت کریں گے چوہدری نثار کی جبکہ ان کی اپنی پارٹی ان کے ساتھ نہیں ہے لیکن سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ فردوس عاشق اعوان صرف اتنی بات کر سکتی ہیں جتنی ان کو معلومات ہو ۔لندن مشن کیا ہے یا پسے پردہ کیا ملاقاتیںرابطے اور پلاننگ ہو رہی ہے اس کے بارے میں پی ٹی آئی کے ترجمان اس وقت تک لاعلم رہتے ہیں جب تک عمران خان انہیں بتا نہ دے ۔اسد عمر کے معاملے میں جو کچھ ہوا اس سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ پی ٹی آئی کے وزراء اور ترجمانوں کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی یہ کیا ہونے والا ہے وہ میڈیا میں آنے والی خبروں کی تردید کرتے رہ جاتے ہیں اور جو کام ہونا ہوتا ہے وہ ہو جاتا ہے ۔پی ٹی آئی کے ترجمان اور وزراء بعد میں لکیر پیٹتے رہ جاتے ہیں عرصہ گزر چکا ہوتا ہے ۔چوہدری نثار علی خان اور عمران خان کے رابطے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں دونوں کا ساتھ بہت برا نہ ہے دونوں ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے خیرخوا رہے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا چوہدری نثار علی خان پی ٹی آئی میں شامل ہو کر وزارت اعلیٰ حاصل کرنا چاہتے ہیں یا آزاد حیثیت میں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آزاد حیثیت میں ان کے امکانات زیادہ ہوں گے کیونکہ دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت درپردہ طور پر حاصل ہو جائے گی ۔ سیاسی موسمی کا کہنا ہے کہ چوہدری نثار علی خان کے لیے یہ ڈو اور ڈائی کا موقع ہے اگر انہوں نے سنجیدگی کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بنا لیا تو وزارت اعلی پنجاب اس وقت ان سے زیادہ فاصلے پر نہیں ہے اور اگر انہوں نے یہ موقع بھی ضائع کردیا تو پھر آنے والے دنوں میں وہ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں