نیب ندیم بھٹو سے کیا معلوم کرنا چاہتی ہے؟

نیب کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کے آبائی گھر نوڈیرو ہاؤس لاڑکانہ پر چھاپا مارنے اور وہاں کے انچارج ندیم بھٹو کو حراست میں لینے پر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جو جو بلاول بھٹو زرداری حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے جارہے ہیں بالخصوص کالعدم تنظیموں سے وفاقی وزراء کے رابطوں کے بارے میں ان کے موقف میں سختی آئی ہے اور انہوں نے وزراء کے استعفے مانگنے کی رٹ لگائی ہے ان کی پارٹی قیادت اور ان کے خاندان کے خلاف حکومت کا شکنجہ بھی کسا جا رہا ہے ۔ندیم بھٹو کے بھائی عبدالجبار بھٹو نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے بھائی کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کی تصدیق کی ہے بتایا جاتا ہے کہ نیب اسلام آباد کی ٹیم نے نیب سکھر کی ٹیم کے ہمراہ لاڑکانہ میں چھاپہ مارا اور ندیم بھٹو کو طے شدہ پیغام کے مطابق گرفتار کیا گیا اگر اسے باقاعدہ عدالت میں پیش کرکے اس سے پوچھ گچھ کے لئے ریمانڈ لیاجائےگا نیب ذرائع کے مطابق نیب نظیر بھٹو سے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے حوالے سے اہم معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے نیب کو معلومات ملی تھی کہ نظیر بھٹو کے پاس نوڈیرو ہاؤس کے مالی امور کی دیکھ بھال کی ذمہ داری رہی ہے لہذا وہ جعلی بینک اکاؤنٹس اور اومنی گروپ کے حوالے سے اہم معلومات رکھتا ہے ۔یاد رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری ان کی ہمشیرہ فریال تالپور اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سابق چیئرمین حسین لوائی سمٹ بینک کے سینئر نائب صدر رضا ان افراد میں شامل ہیں جو جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کے کیس میں زیر تفتیش ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں