عامر کیانی بندوق پکڑ کر بارڈر پر جانے کے لیے تیار … نااہلی کا تمغہ نہ دیا جائے

کپتان عمران خان کی سربراہی میں پاکستان کو آگے لے کر جانے والی پی ٹی آئی حکومت کی کابینہ کی ٹیم سے نااہلی کی بنیاد پر باہر ہونے والے سابق وفاقی وزیر صحت عامر محمود کیانی پھٹ پڑے۔ انہیں دن رات محنت کرنے کے بعد نااہلی کا دموع ملنے پر سخت غصہ اور افسوس ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کپتان کی آواز پر پی ٹی آئی کے لیے دن رات ایک کیا لیکن مجھے کس جرم کی سزا ملی ہے ؟عمران خان کا فیصلہ تسلیم مگر قصور میرا نہیں تھا ۔انہوں نے کہا ہے کہ ڈالر مجھ پر بھی قیامت بن کر گرا اور نا اہلی کا الزام مجھ پر لگ گیا حالانکہ حقائق ایسے نہیں ہیں ادویات کی قیمتیں کچھ تو لیگی کابینہ اور کچھ ڈالر کے باعث بڑھ گئی کمپنیوں نے اسی ادویات کی قیمتوں میں کمی نہیں کی ڈالر کی وجہ سے ادویات کی قیمتوں میں آٹھ سے نو فیصد اضافہ کیا جو ہم نے قیمت بڑھائیں اس سے معمولی اضافہ ہوا پہلے کی طرح آج بھی عمران خان اور ان کی قیادت پر اعتماد ہے اگر بندوق دے کر بارڈر پر بھی بھیجیں گے تو تیار ہو ں۔ عامر کیانی ان باتوں پر سیاسی حلقوں میں تفصیل شروع ہوگئے ہیں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عامر کیانی کے پاس ہاتھ ملنے کے سوا کچھ نہیں رہا انہوں نے کپتان کو مایوس کیا کپتان کے پاس ان کے خلاف شکایات ہیں شکر کریں ان کا معاملہ نیب کو نہیں بھیجا ۔ان کی باتیں کھسیانی بلی کھمبا نوچے جیسی ہیں پی ٹی آئی کے اپنے کارکنان سے نالاں ہیں ادویات کی قیمتیں بڑھا کر انہوں نے کس کی خدمت کی ۔انہوں نے عوام کو کیا ریلیف دلایا۔ وہ تبدیلی کا نعرہ لے کر آئے تو کیا تبدیلی لائے۔ انہیں خود سوچنا چاہیے کہ وہ کیا کرنے آئے تھے اور کیا کر کے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں