حفیظ شیخ بامقابلہ حفیظ پاشا

جب اسد عمر امریکہ میں آئی ایم ایف سے مذاکرات کر رہے تھے تو انہیں ایک صحافی دوست نے بتا دیا تھا کہ پاکستان واپسی پر آپ فارغ ہو جائیں گے تب حکومتی حلقوں میں دو نام زیر بحث تھے ایک نام حفیظ شیخ اور دوسرا نام حفیظ پاشا ۔
اسد عمر کے متبادل کے طور پر دونوں نام اہم تھے دونوں کا تجربہ دونوں کا ماضی اس حوالے سے اہمیت رکھتا تھا کہ وہ پاکستانی معیشت کو بخوبی سمجھتے ہیں اور موجودہ بحران سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔
پی ٹی آئی حکومت کے اندر ایک حلقہ حفیظ پاشا کا حامی تھا اور دوسرا حفیظ شیخ کا ۔
بلآخر نئے نام کا اعلان خود عمران خان نے کرنا تھا اور نام آگیا حفیظ شیخ ۔
بعض لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ جنرل ایوب خان کے پوتے عمر بہر خان کو اہم ذمہ داری ملنے والی ہے لیکن سنجیدہ امیدوار دو ہی تھے وہ تھے حفیظ پاشا اور حفیظ شیخ ۔
حفیظ شیخ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد حفیظ پاشا نے ٹی وی چینل پر انٹرویو کے دوران ملکی معیشت کو درپیش چیلنجوں اور حفیظ شیخ کے سامنے موجود مشکلات کے حوالے سے کھل کر بات کی ہے ۔
حفیظ پاشا نے اپنے تجربے کے لحاظ سے جن مسائل کی نشاندہی کی اور تجاویز پیش کی ہیں ان پر حکومت کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے حفیظ پاشا اس بات پر حیران ہیں کہ حفیظ شیخ نے جہانگیر ترین کی سربراہی میں ایڈوائزری بورڈ کی موجودگی کو کیوں تسلیم کر لیا جس کے ارکان کی غالب اکثریت بینکرز پر مشتمل ہے ایک بااختیار مشیر خزانہ کی موجودگی میں ایسے ایڈوائزری بورڈ کی کیا ضرورت تھی ۔
حفیظ پاشا کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کو اگر اسد عمر کو تبدیل نہیں کرنا تھا تو انہیں بجٹ پیش کرنے دیا ہوتا ۔یہ فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ اس موقع پر حضرت عمر کو تبدیل کیوں کیا گیا جبکہ 24 مئی کو نیا بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ بھی کیا جا چکا تھا ۔آئی ایم ایف سے مذاکرات بھی ہو رہے تھے تو تھوڑا انتظار کرنا چاہیے تھا اور اسد عمر کو ایک مہینہ اور دے دینا چاہیے تھا ۔
حفیظ پاشا کا یہ بھی کہنا ہے کہ حفیظ شیخ وہ بجٹ بنانے کے لئے مناسب وقت نہیں مل سکے گا بجٹ سازی کا کام محکمہ خزانہ دسمبر اور جنوری کے مہینوں سے شروع کر دیتا ہے اس وقت عجیب صورت حال ہے کہ مشیر خزانہ بھی نیا ہے اور سیکرٹری خزانہ بھی کچھ دن پرانا ہے ۔
معاشی مبصرین کا کہنا ہے کہ حفیظ سے اور حفیظ پاشا دونوں ہی پاکستان کی معیشت کے حوالے سے بڑے نام ہیں دونوں کا تجربہ ہے دونوں کا بڑا قد ہے حفیظ پاشا نے جن مشکلات کا اشارہ کیا ہے اب آنے والے دنوں میں حفیظ شیخ کو اپنی صلاحیتوں تجربے اور ذہانت کے ذریعے ان مشکلات پر قابو پانا ہوگا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں