چوہدری نثار کی دبنگ انٹری ۔ پنجاب اسمبلی کے رکن کا حلف اٹھانے کا فیصلہ ۔ نظریں وزارت اعلیٰ پر…

پاکستان کے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایک مرتبہ پھر متحرک اور سرگرم ہوگئے ہیں انہوں نے پنجاب اسمبلی میں رکن کے طور پر حلف اٹھانے کا فیصلہ کرلیا ہے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چوہدری نثار علی خان کی نظریں اب وزارت اعلی پنجاب پر لگی ہوئی ہیں عثمان بزدار کو چند مہینوں کا وقت اسی لیے دیا گیا ہے کے اس دوران چوہدری نثار اپنی پوزیشن مستحکم کریں ۔سیاسی حلقوں میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ چوہدری نثار علی خان اور وزیراعظم عمران خان پرانے دوست ہیں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف عمران خان کے علاوہ مارچ اور احتجاجی دھرنے کے دوران وزیر داخلہ کی حیثیت سے چوہدری نثار علی خان نے عمران خان کو ہر ممکن سہولت دی تھی نہ صرف انہیں ڈی چوک تک آنے دیا بلکہ وزیراعظم ہاؤس کے دروازے تک پہنچنے اور پی ٹی وی پر حملہ کرنے کی کھلی چھوٹ بھی دے رکھی تھی چوہدری نثار کے مخالفین آج بھی یہ بات کہتے ہیں کہ اگر بطور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اس وقت چاہتے تو دھرنا ڈی چوک تک ہی محدود رہ سکتا تھا بلکہ اسلام آباد میں داخل بھی نہیں ہو سکتا تھا لیکن وہ سب کچھ ایک طے شدہ پلان تھا اور نواز شریف پر دباؤ بڑھانے میں چوہدری نثار علی خان نے اپنا پورا کردار ادا کیا تھا ۔
پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے چوہدری نثار علی خان کے سامنے اب ایک رکاوٹ رہ گئی ہے جن کا نام ہے چوہدری پرویز الہی ۔۔۔۔۔پنجاب کی وزارت اعلی کے لیے دو چودھری میدان میں آمنے سامنے ہوں گے اطلاعات کے مطابق شہباز شریف دونوں سے رابطے میں ہیں جبکہ ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز پنجاب میں عثمان بوزدار کی حکومت گرانے کے لیے اراکین اسمبلی سے رابطوں میں مصروف ہیں سیاسی موسمیات مطابق اگر چوہدری نثار علی خان اور چودھری پرویز الھی کے درمیان میچ ٹائی ہوگیا تو پھر منظور وٹو میدان مار لیں گے وہ ماضی میں بھی چوہدری اور پیپلز پارٹی کی مدد سے وزارت اعلیٰ کے مزے لوٹ چکے ہیں تب ان کے ماسٹر مائنڈ حامد ناصر چٹھہ تھے۔ پنجاب کی موجودہ سیاست دلچسپ صورتحال اختیار کر چکی ہے پنجاب کو چلانے کے لیے سینٹرل پنجاب کا وزیر اعلی تلاش کیا جا رہا ہے جنوبی پنجاب کا وزیر اعلیٰ صوبہ پنجاب کو اس طرح نہیں چلا پا رہا جس طرح چلانا چاہیے پی ٹی آئی کے اندر بھی عثمان بوزدار کی مخالفت ہے پی ٹی آئی کے اراکین نے بھی دل سے عثمان بزدار کو وزیراعلی تسلیم نہیں کیا صرف عمران خان کی حمایت کی وجہ سے خاموش ہیں لیکن وہ اندر ہی اندر پاک رہا ہے علیم خان اور ان کے حامی پی ٹی آئی میں سب سے زیادہ حق علیم خان کا سمجھتے ہیں شروع دن سے ان کا خیال تھا کہ علیم خان کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنایا جائے گا ان کی بڑی کے لئے بہت خدمات ہیں لیکن ایسا نہیں ہوسکا علیم خان بھی پارٹی قیادت سے ناراض ہیں اور شکوہ کر چکے ہیں کہ ماضی کی حکومتوں میں اور اس حکومت کہ گزرا میں کیا فرق رہ گیا ہے جو کل وزیر تھے وہ آج بھی وزیر بن گئے ہیں پھر پی ٹی آئی کی جدوجہد کس لئے تھی۔ لاہور اور سینٹرل پنجاب میں پی ٹی آئی کے کارکنوں اور عہدیداروں میں مایوسی پھیل رہی ہے وزیر اعظم عمران خان اپنے وزیروں اور پارٹی عہدے داروں سے کہتے ہیں کہ شریفوں کی کرپشن اور آصف زرداری کی چوری اور ڈاکے پوری شدت کے ساتھ عوام کے سامنے لائے جائیں لیکن پی ٹی آئی حکومت کی نئی معاون خصوصی برائے وزارت اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ٹی وی پروگرام میں آصف زرداری کو کرپٹ کہنے کے سوال پر صاف انکار کر دیا کہ وہ کسی کو کرپٹ ہونے کا سرٹیفکیٹ نہیں دے سکتی۔ یہ صورتحال پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے لئے ہنسی شرمندگی کا باعث بن رہی ہے ۔پی ٹی آئی کے کارکنوں اور ان کے حامیوں کو پنجاب میں مسلم لیگ نون اور دیگر مخالفین کی جانب سے روز طعنے سننے کو مل رہے ہیں اور ان کے پاس اپنے دفاع کیلئے کوئی جواب نہیں ہے پیپلز پارٹی کے دور کا وزیر خزانہ اب پی ٹی آئی کا بجٹ بنا رہا ہے . عمران خان 6 سال تک جس شخص کو پاکستان کی معیشت کو بحران سے نکالنے کا چیمپئن قرار دیتے رہے وہ شخص اسد عمر آٹھ مہینے میں میدان سے باہر ہوگیا۔

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

اپنا تبصرہ بھیجیں