رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو … بلاول نے نئے وزیر داخلہ اعجاز شاہ پر اعتراض کر دیا

بلاول بھٹو زرداری اپنی والدہ کے قتل کو بھولے نہیں ہیں انہوں نے نئے وزیر داخلہ اعجاز شاہ پر اعتراض کر دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ کسی وزیر کے ساتھ دشمنی یا مخالفت نہیں لیکن وہ ذرا دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں تو دنیا سے آوازیں تو اٹھے گی ۔کراچی میں ہسپتال کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک وزیر پر ڈینیل پرل  Daniel Pearlسے لے کر بی بی شہید تک قتل کا الزام ہے دہشت گردی کا سوالیہ نشان ہے ۔
بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ حکومت کو اگر آئی ایم ایف IMFکے پاس جانا ہی تھا تو پہلے کیوں نہیں گئے ۔اس حکومت کی ڈائریکشن کا کچھ پتہ نہیں جب حکومت ناکام ہوچکی ہے پہلے دن ہی کہا تھا یہ سلیکٹ ہیں ان میں اہلیت نہیں ۔بلاول نے کہا سندھ کو اپنے حصے کا کم پیسہ دیا جا رہا ہے ہم جدوجہد کر کے وسائل اور حق چھین لیں گے 18 ویں ترمیم کے خلاف سازش ہو رہی ہے اسے ناکام بنا ئیں گے 18 ویں ترمیم آنے کے بعد سے اب تک  NFC Award این ایف سی ایوارڈ نہیں آیا نواز شریف کے دور میں بھی نہیں آیا اور اب تو اٹھارویں ترمیم کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں پیپلزپارٹی  Peoples Partyان سازشوں کا راستہ روکے گی ۔
واضح رہے کہ عمران خان نے اپنی کابینہ میں اب بریگیڈیئرریٹائرڈ اعجاز شاہ کوبطوروزیرداخلہ شامل کیا ہے یہ وہی بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ ہیں جن کا نام ان چار لوگوں میں شامل ہے جن کے بارے میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کہا تھا کہ اگر میں قتل کردی جاؤں تو ان چاروں سے پوچھ گچھ کی جائے بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ علاوہ دیگر تین لوگوں میں جنرل حمید گل General Hameed Gul۔سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کے نام شامل تھے

اپنا تبصرہ بھیجیں