اسد عمر کے بعد وزیراعظم ہاؤس میں اداسی چھا گئی

اسد عمر کی کابینہ سے علیحدگی کے بعد وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنے والے سینئر صحافی محمد مالک نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے زندگی میں پہلی بار عمران خان کو اتنا پریشان اور اداس دیکھا۔ یہ اداسی اسد عمر کی وجہ سے تھی جو عمران خان کی کابینہ کا حصہ نہیں رہے۔ محمد مالک نے یہ بھی کہا ہے کہ مجھے وزیراعظم عمران خان کی باتوں سے ایسا محسوس ہوا کہ وہ اسد عمر کو کابینہ میں ضرور واپس لائیں گے قد اسد عمر نے اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ عمران خان نے مجھے انرجی کی وزارت کی پیشکش کی ہے جس پر میں نے معذرت کر لی ہے۔
سینئر صحافی محمد مالک نے اپنے ٹی وی پروگرام میں بتایا کہ عمران خان کے مطابق ان کی حکومت کی دو ترجیحات ہیں سب سے پہلی وزارت خزانہ اور دوسری وزارت توانائی. جب وزارت خزانہ اسد عمر سے واپس لے لی گئی تو ان کے لیے وزارت توانائی ہی بہترین ہے۔
پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں اور بعض وزراء نے بھی اسد عمر سے رابطہ کرکے انہیں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی ہے اور انہیں منانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔اطلاعات ہیں کہ شیخ رشید نے بھی یہ کوشش شروع کر دی ہے۔
اسد عمر کہہ چکے ہیں کہ وزارت ضروری نہیں مجھے یقین ہے کہ عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کی حکومت نیا پاکستان ضرور بنائے گی اور میں نے وزارت چھوڑی ہے پارٹی نہیں چھوڑی میں کل بھی عمران خان کے ساتھ تھا آج بھی ان کے ساتھ ہو آئندہ بھی ان کا ساتھ دوں گا جب میں نے پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا تو میں نے عمران خان پر واضح کردیا تھا کہ میں آپ کے لیے نہیں آ رہا ہوں کیونکہ آپ کے پاس سب کچھ نہیں ہے جواب مجھے دیا مجھے اس میں کوئی دلچسپی ہو میں صرف اور صرف پاکستان کی خاطر آ رہا ہوں ۔ابو ہیں اسد عمر کابینہ سے الگ ہو چکے ہیں ۔وزیراعظم اداس ہیں ۔وزیراعظم ہاؤس میں ہی نہیں پوری پی ٹی آئی میں اداسی چھائی ہوئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں