پی ٹی آئی قیادت مزید پریشان، فردوس عاشق اعوان نے آصف زرداری کو کرپٹ قرار دینے سے صاف انکار کردیا

وزیراعظم عمران خان گزشتہ کچھ دنوں سے اپنے وزرا اور پارٹی عہدیداروں پر اس وجہ سے ناراض اور غصہ نظر آتے رہے ہیں کہ ان کے خیال میں وزرا اور پارٹی عہدیدار شریف خاندان اور زرداری کے خلاف اس شدت سے آواز نہیں اٹھاتے بات نہیں کرتے جس طرح نہیں کرنی چاہیے کپتان نے اپنے پارٹی عہدے داروں اور وزراء کو ہدایت کی تھی کہ وہ شریف خاندان اور زرداری سے ڈریں نہیں یہ لوگ آپ کبھی اقتدار میں نہیں آئیں گے لہذا ان کے خلاف ٹی وی پروگراموں میں کھل کر بات کیا کریں لیکن اب کپتان اور پی ٹی آئی کی پریشانی مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ وزارت اطلاعات کی نئی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے ٹی وی پروگرام کے دوران آصف زرداری کو کرپٹ کرار دینے سے صاف انکار کردیا ٹی وی پروگرام کی میزبان غریدہ فاروقی نے سیدھا سوال کیا کہ کیا آصف زرداری کرپٹ ہے۔ اس پر فردوس عاشق اعوان نے فورا کہا میں کسی کو کرپٹ ہونے کا سرٹیفکیٹ نہیں دے سکتی۔ معاملات عدالتوں میں ہوں جب تک عدالت کسی کو مجرم قرار نہ دے دے یہ بات نہیں کی جاسکتی ۔اس پر میزبان نے کہا کہ آپ کے کپتان تو نام لے کر انہیں چور ڈاکو کہتے ہیں ۔فردوس عاشق اعوان نے نے جواب دیا کہ وہ اس کنڈکٹ اور ایکشن کی بات کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کون کرپٹ ہے کون نہیں اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے عدالتیں موجود ہیں جعلی بینک اکاؤنٹس کے کیس عدالتوں میں چل رہے ہیں فیصلہ آنے دیں عوام کو پتہ چل جائے گا معاملہ جس طرف جا رہے ہیں وہ لمحہ فکریہ ہے سندھ کے عوام بھی دیکھ رہے ہیں پورے ملک کے عوام کو بھی پتہ چل جائے گا ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے غلط کام کیا ہے اور عدالت میں ثابت ہو جاتا ہے تو چاہے پھر وہ میرا بھائی ہی کیوں نہ ہو اسے سامنا کرنا پڑے گا۔ سیاسی حلقوں میں فردوس عاشق اعوان کے اس جواب پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے لیے بھی نئی مشکل کھڑی ہو گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں