کابینہ میں تبدیلیاں صدارتی نظام کی جانب پیش قدمی ہے؟

وفاقی کابینہ میں ہونے والی تبدیلیوں کو سیاسی مبصرین پاکستان میں مجوزہ صدارتی نظام کی جانب پیش قدمی قرار دے رہے ہیں ۔دعوی کیا جا رہا ہےکہ تبدیلیاں کیں نہیں گئی بلکہ کرائی گئی ہیں ۔جن کے اشارے پر بھی یہ تبدیلیاں ہوئی ہیں وہ بڑے حساب کتاب سے آگے بڑھ رہے ہیں عمران خان کی سب سے اہم مہرے ہلا دیئے گئے ہیں آنے والے دنوں میں ان کی حیثیت مزید بے بس وزیراعظم جیسی ہو جائے گی جس طرح آنن فانن وزرا کو ہٹایا گیا ہے یا ان کے قلمدان تبدیل کیے گئے ہیں اس کی وجہ سےاب پارٹی کے اندر عدم اطمینان کی پوزیشن پیدا ہوگئی ہے سارےوزرا غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہیں گے اہم معاملات اور غیر منتخب لوگوں کے ہاتھ میں چلے گئے ہیں جو مشیر اور معاون خصوصی بن کر اہم پوزیشنوں پر فائز کر دیے گئے ہیں اور وہ براہ راست پارلیمنٹ کو جوابدہ نہیں ہوں گے نہ تو یہ لوگ عوام کا ووٹ لے کر الیکشن جیت کر آئے ہیں نہ ہی انہیں دوبارہ عوام کے پاس جانا ہوگا ایک خاموش انداز سے آہستہ آہستہ ملک کو مجوزہ صدارتی نظام کی جانب آگے بڑھایا جانے لگا ہے جہاں وزیراعظم منتخب ہونے کے باوجود اپنی ٹیم پوری مرضی سے نہیں بنا سکتا اور جس وزیر پر وہ سب سے زیادہ اعتماد کرتے تھے اسے سب سے پہلے ہٹانا پڑا ۔سیاسی مبصرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر اسد عمر سمیت دیگر وزراء کے قلمدان اس لیے تبدیل کرنے ضروری تھے کہ ان کی کارکردگی اچھی نہیں رہی تو یہ بتایا جائے کہ جن وزرا کے قلمدان تبدیل نہیں کیے گئے انہوں نے اپنی وزارتوں میں کون سے کارنامے انجام دیے ہیں ۔جووزرا اپنی وکٹیں بچانے میں کامیاب رہے یا جن کے قلمدان تبدیل نہیں کیے گئے کیا ان کی کارکردگی اسد عمر کی کارکردگی سے بہتر تھی ؟اگر ایسا ہے تو پھر انہیں تو انعامات دینے چاہئیں اعزازات دینے چاہئیں لیکن معاملات سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ مجموعی صورتحال ایک جیسی ہے کہیں پر بھی زیادہ فرق نظرنہیں آرہا ۔اس کا صاف مطلب لیا جاسکتا ہے کہ فیصلے عمران خان سے کرائے گئے ہیں عمران خان نے خود نہیں کیے۔عمران خان کی پارٹی کے اہم عہدے دار اور کابینہ کے اراکین بھی آخری وقت تک لاعلم تھے کہ کون سا وزیر تبدیل ہو رہا ہے اور کیوں ؟ ڈاکٹر حفیظ شیخ ہو یا ندیم بابر ہو یا فردوس عاشق اعوان۔ان کا میرٹ کیا ہے ؟کپتان کو ان کی سلیکشن کے حوالے سے عوام کو مطمئن کرنا ہوگا سوال تو یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ 21 22 سالہ سیاسی جدوجہد کے دوران کیا ایک شخص بھی پارٹی کے اندر اسد عمر کا متبادل تیار نہیں کیا جا سکا اسد عمر کو ہٹائے جانے پر پوری پارٹی اور پارلیمنٹ کے اندر سے عمران خان کو ایک بھی قابل آدمی نظر نہیں آیا پھر آصف زرداری دور کے وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کو آگے لانے کی ضرورت کیوں پیش آئی جیالے بھی پوچھ رہے ہیں اور پی ٹی آئی کے نوجوان بھی کیا آصف زرداری کے دور میں ہونے والی کرپشن وزیر خزانہ کے ملی بھگت کے بغیر ممکن تھی عمران خان کہتے ہیں کہ دس سال کے دوران ملک پر ہزاروں ارب ڈالر کا قرضہ چڑھایا گیا ان دس سالوں میں ایک عرصہ حفیظ شیخ بھی وزیر خزانہ رہے پھر ملک پر اتنا قرضہ چڑھ آنے والے وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو ایک مرتبہ پھر عوام پر مسلط کرنے کی کیا وجہ ہے ؟اگر حفیظ شیخ اچھے ہیں تو وہ ماضی میں بھی اچھے رہے ہونگے پھر ان کے دور میں آصف زرداری نے کرپشن کیسے کی ہوگی پی ٹی آئی کی قیادت اپنے ہی جال میں پھنس گئی ہے اور ملک کو دھیرے دھیرے صدارتی نظام کی طرف لے جانے والوں نے پی ٹی آئی کے معاملہ تو جا دیے ہیں کھانے والے دن پی ٹی آئی کی قیادت اور حکومت کے لیے مزید مشکل نظر آ رہے ہیں خود اس دن بھر جاتے جاتے کہہ گئے ہیں کہ یہ امید مت رکھیں کہ چند مہینوں میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ مزید چیخیں نکلے گی اس کی تیاری رکھی جائے۔اللہ پاکستان پر رحم کرے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں