عثمان بزدار وزیراعلیٰ رہے تو عمران خان بھی جائیں گے

پاکستان کے تین بڑے صحافیوں حامد میر، عبدالمالک اور کاشف عباسی نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ موجودہ حالات میں پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر اگر عثمان بوزدار فائز رہے تو پھر عمران خان بھی جائیں گے۔ ٹی وی پروگرام میں تینوں سینئر صحافیوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب کی کارکردگی پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ بات وزیراعظم عمران خان سے براہ راست عبدالمالک نے اپنی گزشتہ ملاقات میں کی ہے اور یہاں تک کہا ہے کہ اگر آپ پنجاب میں نہ دے سکے تو پھر آپ اسلام آباد میں بھی ڈوب جائیں گے لیکن عبدالمالک کا کہنا ہے کہ اس کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ نہیں ایسا نہیں ہوگا عثمان بوزدار ہیں ڈلیور کرے گا اور مجھے اس پر اعتماد ہے اور وہ اپنا کام جاری رکھے گا وزیراعظم عمران خان نے عبدالمالک کے اندازوں کو غلط قرار دے دیا اور وزیر اعلیٰ کو تبدیل کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ کاشف عباسی نے ان سے پوچھا کہ آپ بھی وزیراعظم سے ملے تھے کیا آپ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی تبدیلی کی بات کی تھی اس پر حامد میر کا کہنا تھا کہ میری ملاقات ہوئی دیگر امور پر باتیں بھی ہوئی لیکن اس معاملے پر میں نے بات نہیں کی۔ پروگرام کے دوران حامد میر نے کاشف عباسی اور عبدالمالک سے رائے لینے کے بعد کہا کہ اس بات پر ہم تینوں کا اتفاق ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے پر اگر عثمان بزدار کو برقرار رکھا گیا تو پھر عمران خان کی حکومت بھی چلی جائے گی۔ عبدالمالک اور کاشف عباسی نے ہاں میں ہاں ملائی۔ اور ساتھیوں نے اعظم سواتی کی کابینہ میں واپسی پر بھی سوالات اٹھائے عبدالمالک نے دعویٰ کیا کہ جس فیملی کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا اعظم سواتی نے ان کو معاف کرنے کے عوض ایک کروڑ روپیہ دینے نوکریاں دینے مکان بنوا کر دینے کا وعدہ کیا تھا ان تمام باتوں سے اس خاندان کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اعظم سواتی مکر چکے ہیں جبکہ اسی خاندان کے جس بچے کو اسکول میں داخل کرایا گیا تھا اور ختم ہونے کے بعد اس بچے کو بھی اسکول سے نکال دیا گیا اور اس کی فیس ادا نہیں کی گئی یہ بات بچے نے خود بتائیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں