وزیراعظم عمران خان کا نشانہ … پاکستان کے تین چور گھرانے ہیں

وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر عوام پر واضح کردیا ہے پاکستان میں کرپشن ہیں اصل مسائل کی جڑ ہے اور پاکستان کو تین گھروں نے لوٹا ہے خیبر پختونخواہ میں اورکزئی کے مقام پر بڑے جلسہ عام سے اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے یاد دلایا 2008 میں پاکستان کا قرضہ چھ ہزار ارب روپے تھا لیکن دس سال بعد یعنی 2018 میں یہ قرضہ بڑھ کر تیس ہزار ارب ہو چکا تھا صرف تین گھروں نے چوری کی ۔مشرف نے دو گھروں کو این آر او دے دیا۔ نواز شریف کو سعودیہ جانے دیا۔ حدیبیہ پیپر ملز منی لانڈنگ کیس بند کر دیا۔
عمران خان حیران ہیں کہ کیا میں پاکستان سے لے کر 2018 پاکستان کا قرضہ صرف چھ ہزار ارب تھا اس دوران تربیلا ڈیم بھی بنا منگلا ڈیم بھی بنا پاکستان نیوکلیئر ملک بھی بنا اور پاکستان میں موٹروے بھی بنیں لیکن قرضہ صرف چھ ہزار ارب تھا جب کہ 2008 سے 2018 کے دس سال کے دوران قرضہ بڑھ کر تیس ہزار ارب ہو گیا ۔
سیاسی حلقوں میں وزیراعظم عمران خان کے اس بیان کے حوالے سے بحث جاری ہے اور تبصرے سامنے آرہے ہیں کہ وزیراعظم تین بڑے سیاسی گھروں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں آنے والے دنوں میں مزید مقدمات کی امید رکھی جاسکتی ہے وزیراعظم عمران خان کرپشن کے خلاف اپنی حکومتی کارروائی کو مزید تیز کر سکتے ہیں ان کا نشانہ نواز شریف شہباز شریف اور آصف زرداری ہونگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں