گورنر خیبر پختونخواہ Khyber Pakhtunkhwa صدارتی نظام کے حامی کیوں؟

گورنر خیبر پختونخوا Khyber Pakhtunkhwa شاہ فرمان Shah Farman نے صدارتی نظام کی حمایت کر کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر گورنر خیبر پختونخواہ صدارتی نظام کے حامی کیوں ہیں کیا انہیں کہیں سے کوئی اشارہ ملا ہے یا انہوں نے بھی کوئی خواب دیکھنے شروع کردیئے ہیں۔
خود گونر خیبر پختونخوا کیا فرمان کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام میں حکومت کرنا بہت مشکل کام ہے کیونکہ موجودہ سسٹم میں بلیک میلنگ بہت زیادہ ہے اتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے ان کی فرمائشیں ہوتی ہیں ان کی ناراضگی ہو جاتی ہیں ان کو خوش رکھنے کے لیے وزیراعظم کو غیر ضروری باتیں ماننی پڑتی ہیں اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اگر صدارتی نظام آجائے تو اس طرح پاکستان جیسے ملک میں بلیک میلنگ بھی ختم ہو سکتی ہے کرپشن بھی رک جائے گی اور حکومت موثر طریقے سے کام کر سکے گی۔
دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا KPK کی باتوں پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں پاکستان نے صدارتی نظام دیکھ بھی لیا اور اس کے نقصانات بہت بھی لیے جنرل ایوب خان جنرل یحییٰ خان اور پی جنرل ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف نے بطور صدر وہ سب کچھ کر کے دیکھ لیا جو صدارتی نظام میں کیا جا سکتا ہے اور اس کے کوئی مثبت نتائج نہیں نکلے پاکستان کو واپس پارلیمانی نظام کی طرف جانا پڑا ضرورت اس بات کی ہے کہ نظام بدلنے کی بجائے وزیراعظم اور پارلیمنٹ کو مضبوط کیا جائے جمہوری رویہ اختیار کیے جائیں اور جمہوری انداز میں تربیت کی جائے ۔دنیا کے تمام ترقی یافتہ ملکوں میں صدارتی نظام نہیں ہے جن ملکوں نے پارلیمانی نظام ہوتے ہوئے ترقی کی ہے آخر ان ملکوں کو ماڈل کیوں نہیں بنایا جاتا ۔کمزوری نظام کے اندر نہیں ہے بلکہ لوگوں کے اندر ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں