پاکستان کے نئے وزیر داخلہ اعجاز شاہ کون ہیں اور کیا شہرت رکھتے ہیں؟

پاکستان کے نئے وزیر داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ   Brigadier Retired Ijaz Shah پاکستان کی سیاسی اور انٹیلی جنس تاریخ میں ایک انتہائی اہم کردار کے حامل ہیں وزیرداخلہ بننے سے پہلے ان کا نام نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کی خالی آسامی پر تعیناتی کے حوالے سے گردش کر رہا تھا لیکن وزیراعظم نے ان کی تقرری نہیں کی مذکورہ اہم پوزیشن ناصر جنجوعہ  Nasir Janjuaکی مدت مکمل ہونے کے بعد سے خالی ہے۔سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے دور میں بریگیڈیئر اعجاز شاہ کو آسٹریلیا میں پاکستان کا ہائی کمشنر بنانے کی کوشش کی تھی لیکن حیران کن طور پر آسٹریلوی حکومت نے معذرت کرلی تھی اس کے بعد جنرل پرویز مشرف نے 2004 میں بریگیڈیئر اعجاز شاہ کو پنجاب میں انٹیلی جنس چیف مقرر کیا تھا جہاں مارچ 2008 کو فائز رہے اور پھر پیپلز پارٹی PPPکی حکومت بننے سے پہلے انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔
بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کا شمار سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے انتہائی بااعتماد اور قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا انہوں نے آئی ایس آئی اور آئی بی میں انتہائی اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں ان کے دور میں ہی پنجاب میں مسلم لیگ نون کے لوگوں کی وفاداریاں تبدیل کرکے مسلم لیگ ق تیار کی گئی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے لوگوں کی وفاداریاں تبدیل کرکے پاکستان پیپلزپارٹی پیٹریاٹ تیار کی گئی۔
سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں جن لوگوں پر اپنے قتل کی سازش تیار کرنے کا شک ظاہر کیا اور الزام لگایا تھا کہ اگر مجھے قتل کیا گیا تو ان لوگوں سے پوچھ گچھ کی جائے ان چار لوگوں میں ایک نام بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کا تھا۔ دیگر ناموں میں سابق وزیر اعظم اور موجودہ اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ۔ سابق وزیر اعلیٰ سندھ ڈاکٹرارباب غلام رحیم اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل مرحوم شامل تھے۔
بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ شروع سے ہی سیاست میں آنے کے شوقین تھے انہوں نے ننکانہ صاحب سے سیاست کی اور اپنے بھائی کو ضلع کونسل بھی بنوا لیا دو مرتبہ انتخابات میں انہیں مسلم لیگ نون کے ہاتھوں رائے منصب اور ان کی بیٹی نے شکست دی رائے منصب کے انتقال کے بعد بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے قومی اسمبلی اے حلقہ این اے 118 ننکانہ صاحب ٹو سے کامیابی حاصل کرلی انہوں نے رائے منصب کی بیٹی کو 2008 سے شکست دی لیکن یہ کامیابی اس صورت میں عمل میں آئی ہے ایک نئی پارٹی تحریک لبیک کے امیدوار کو 40 ہزار سے زائد ووٹ پڑے۔ ماضی میں ضمنی الیکشن کے موقع پر بھی بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ نے مسلم لیگ نون کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے بعض دوستوں کی خدمات حاصل کیں لیکن نواز شریف نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اگر بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کو ٹکٹ دینا ہے تو پھر پرویز مشرف کو ہی ٹکٹ کیوں نہیں دیا جائے۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کی کابینہ میں شمولیت پر سب سے زیادہ تشویش پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں ظاہر کی تھی پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل میں ملوث ملزم کے ساتھ بھی ان کے رابطے بتائے جاتے تھے اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کے کہنے پر ہی ملزم نے خود کو سرنڈر کیا۔ لیکن بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ صاحب انٹیلی جنس کے دور میں کئی اہم مشن پورے کر چکے ہیں ان کے کیا مشن تھے اس کی تفصیلات قومی مفاد میں ہمیشہ راز میں رکھی گئی ہیں لیکن اب وہ پاکستان کے وزیر داخلہ بن چکے ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ وہ پاکستان کو درپیش داخلی مسائل بالخصوص دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے کامیاب حکمت حکمت عملی وضع کریں گے بالخصوص بلوچستان میں اور کے پی کے میں جو حالیہ دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں ان کے تناظر میں کالعدم تنظیموں اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے وہ اپنے تجربے اور صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کرکے قوم کو اچھی خبریں سنائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں