اسد عمر عمران خان کے لیے منصور اختر ثابت ہوئے

کرکٹ کے دور سے ہی وزیراعظم عمران خان کو قریب سے جاننے والے سینیئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ عمران خان Imran Khan جس پر اعتماد کرتے ہیں اس کو بھرپور موقع دیتے ہیں لیکن اگر وہ بندہ پرفارم نہ کرے تو اس میں عمران خان کا کیا قصور۔ مثال کے طور پر ٹیسٹ کرکٹر منصور اخترMansoor Akhtar کا نام پیش کیا جاتا ہے جنہیں عمران خان نے اپنے دور میں انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنی صلاحیتیں منوانے کے لئے بے شمار مواقع فراہم کیے کہا جا رہا ہے کہ اسد عمر بھی عمران خان کے لیے منصور اختر ثابت ہوئے چھ سال سے عمران خان انہیں کہہ رہے تھے تیاری کرو تیاری کرو تیاری کرو جب حکومت ملی عمران خان نے اسد عمر کو وزیر خزانہ بنایا تو اسد عمر Asad Umarپرفارم کرنے کی بجائے منصور اختر ثابت ہوئے۔
آج کے نوجوان شاید منصور اختر کے کیرئیر سے زیادہ واقفیت نہ رکھتے ہوں اس لئے ان کو بتاتے چلیں کہ منصور اختر پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر تھے انہوں نے انیس سو اسی سے لے کر انیس سو نوے کے دوران 19 ٹیسٹ میچوں میں اور 41 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی انہیں ٹیسٹ کرکٹ میں لانے کی اصل وجہ ان کی بیٹنگ صلاحیتوں پر عمران خان کا بھرپور اعتماد ہوا کرتا تھا منصور اختر نے 1977 میں وحید مرزا کے ساتھ مل کر پانچ سو اکسٹھ رنز کی ورلڈ ریکارڈ اوپننگ اسٹینڈ کی تھی یہ اتنا بڑا عالمی ریکارڈ تھا کہ ان جیسا پلیر کسی ٹیم کے پاس نہیں تھا 25 دسمبر 1957 کو پیدا ہونے والے منصور اختر دائیں ہاتھ کے عمدہ بیٹسمین تھے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 240 میچ کھیل کر تیرہ ہزار سے زائد رنز بنائے اور ان کا اسٹرائیک ریٹ 693 تھا لیکن جب انہیں ٹیسٹ میچ کھلایا گیا تو وہ انیس ٹیسٹ میچوں میں صرف ایک سو پچپن رنز کر سکے اور ان کا ایوریج 25 رہا جبکہ 41 ون ڈے میچوں میں وہ صرف پانچ سو ترانوے رنز PTI بنا سکے اور ان کا ایوریج 17 رنز رہا منصور اختر سے بڑا بدقسمت کھلاڑی شاید ہی کوئی اور ہو اور اب سیاست کے میدان میں اسد عمر نے بھی خود کو منصور اختر ثابت کر دکھایا ۔ اسد عمر میں صرف عمران خان کو ہی مایوس نہیں کیا بلکہ پی ٹی آئی کے ہر اس نوجوان اور اس حامی کو مایوس کیا ہے جو انتخابات سے قبل پی ٹی آئی سے بے تحاشہ توقعات وابستہ کیے بیٹھا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں