اسد عمر اور عمران خان میں کب اختلاف ہوا؟ اسد عمر کے بھائی زبیر عمر نے حقیقت بتا دی

حکومتی پالیسیوں اور فیصلوں کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان اور اسد عمر  کے درمیان اختلافات پیدا ہو چکے تھے سب سے بڑا اختلاف آئی ایم ایف کے پاس جانے پر پیدا ہوا ۔یہ بات اسد عمر کے بھائی محمد زبیر MuhammadZubair  نے اسد عمرAsad Umar  کو ہٹائے جانے کے بعد اپنے ردعمل میں بتائیں ۔محمد زبیر نے کہا ہے کہ ان کے بھائی اسد عمر قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایفIMF جانے کے مخالف تھے لیکن وزیراعظم عمران خان اپنے بڑے بڑے خوابوں کی تکمیل چاہتے ہیں محمد زبیر کا دعوی ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے معاملے پر اسد عمر اور وزیراعظم عمران خانImran Khan کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے ۔اسی لیے اسد عمر نے دوسری وزارت قبول نہیں کی اور وزارت سے استعفی دیتے ہوئے عمران خان کی کابینہ میں رہنے سے معذرت کر لی ہے ۔
محمد زبیر کے اس دعوے کے حوالے سے پی ٹی آئی کا فوری رد عمل سامنے نہیں آیا لیکن یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسد عمر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا چاہتے تھے تو اتنے دنوں سے آئی ایم ایف سے مذاکرات کیوں کر رہے تھے اور امریکہ میں جاکر آئی ایم ایف کی ٹیم سے کیوں ملے؟
واضح رہے کہ محمدزبیر سندھ کے سابق گورنر ہیں وہ اسد عمر کے بھائی ہیں لیکن دونوں معنوں میں سیاسی معاملات میں اختلافات ہیں محمد زبیر مسلم لیگ نون کے رہنما ہیں اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے حامی ہیں جب کہ اسد عمر نواز شریف کے سیاسی مخالف ہیں اور نواز شریف حکومت کی پالیسیوں کے سب سے بڑے ناقد رہے ہیں اور محمد زبیر سے بھی سیاسی اختلاف رکھتے ہیں لیکن دونوں بھائیوں کے آپس میں اچھے تعلقات ہیں اور دونوں کی فیملی بھی آپس میں اچھے خوشگوار تعلقات رکھتی ہے ۔اختلافات صرف سیاسی ہیں۔



اپنا تبصرہ بھیجیں