حنا ربانی کھر بمقابلہ ARY News

جس طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ Donald Trump  نےصدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فیک نیوز قرار دے رکھا ہے بالکل اسی طرح پاکستان کی سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اے آر وائی نیوز کو فیک نیوز قرار دیتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپنے حوالے سے اے آر وائی نیوز Ary News کی ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے اسے فیک نیوز قرار دیا ہے جس پر تبصرہ کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا دنیا بھر سے فالوورز میں تبصرے کیے ہیں سب سے پہلے تبصرہ شمس نے کیا ہے اور اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ اے آر وائی دراصل  PTIپی ٹی آئی اور نیب کا آفیشل چینل ہے۔
مزید تبصرہ میں نوید علی منگی نے لکھا ہے کہ سلیکٹر نیازی کو شرم آنی چاہیے ۔شیم آن اے آر وائی۔
زبیرحسن نے لکھا ہے کہ یہ تو ڈان نیوز  Dawn Newsپیپر میں بھی ہے۔
تنویر کولاچی نے لکھا ہے کہ یہ اے آر وائی نیوز نہیں بلکہ پی ٹی آئی نیوز ہے جس کی سربراہی فواد چوہدری کرتے۔
فیوچر لیڈر کے نام سے تبصرہ آیا ہے کہ اے آروائی کو ایسی خبر پر سمن کرنا چاہیے ۔ندیم جنجوعہ لکھتے ہیں کہ اے آر وائی نیوز گورنمنٹ چینل ہے۔
سید امین الدین تو جذباتی ہوگئے ہیں لکھتے ہیں کہ یہ جھوٹی خبر نہیں ہے بلکہ اے آر وائی چینل ہی جھوٹا ہے ڈاکٹر اصغر علی ضیا نے لکھا ہے کہ لعنت اس خبیث چینل پر جو لوگوں کی عزتیں اچھالتا ہے۔ جواد حیدر نے سوال کر دیا ہے کہ کیا یہ درست ہے کہ آپ کی ٹیکسٹائل مل کو 67 کروڑ روپے کا بجلی کا بل آیا اور اپنے تین ہزار روپے ماہانہ کی قسط کروا لیں؟
شاہ صاحب نے لکھا ہے کہ اگر ابھی تک نہیں ملا تو مل جائے گا کیونکہ یہ چینل پی ٹی آئی کا آفیشل چینل ہے۔
آفاق احمد نے لکھا ہے کہ آپ کو ٹویٹ کرنے کی ضرورت نہیں عوام اے آر وائی نیوز میں چلنے والی خبروں کو ایک ہی سمجھتی ہے ۔رضوان نے تو سنا کیا ہے کہ جی ہاں میں جانتا ہوں۔
شاہد آفریدی نے تبصرہ کیا ہے کہ اے آروائی فیک نیوز ہے۔

امتیاز بروہی نے تبصرہ کیا ہے پی ٹی آئی اے آر وائی کا کنٹرول وغیرہ وغیرہ کے پاس ہے لیکن کوئی بھی ریاست کے مفاد میں نہیں ۔
بھارتی کمال کے مشرا نے لکھا ہے پھر آپ انڈیا آجاؤ۔
پاکستانی تنویر نے لکھا ہے ڈیفالٹر۔
علی عباس قریشی نے پوچھا ہے تو پھر سچ کیا ہے آپ ہی بتا دیں۔
جام عبداللہ خان نے مشورہ دیا ہے کہ اے آروائی کو لیگل نوٹس بھیج دیں۔
شہزاد کہتے ہیں یہ شرمناک ہے ٹی وی چینلز اس طرح کی افواہیں پھیلاتے ہیں ان کو جرمانہ ہو تو مستقبل میں ایسا نہ کریں۔
اے ممتاز لکھتے ہیں اے آر وائی فیک نیوز چینل ہے۔
عمر حسن نے اسے Rip جنرلزم لکھا ہے۔
محمد اسحاق عالیہ جنید جہانگیر عدنان بشیر نے بھی تبصرے کیے ہیں عامر یونس نے تبصرہ کیا ہے لٹیری حسینہ۔
ہٹ لسٹ ایٹی سکس کے نام سے شہناز خالد نے لکھا ہے کہ تین ہزار روپے مہینے کے حساب سے تو 190 سال لگ جائیں گے بجلی کا بل تو دے دیں ۔ رحمان حمید نے لکھا ہے کہ نیب نوٹس اگر ابھی تک نہیں ملا تو جلدی مل جائے گا نجیبہ فیض نے لکھا ہے کہ اے آروائی آفیشل چینل ہے فرحان کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے لیٹر راستے میں ہوں مہدی غازی لکھتے ہیں ان شاء اللہ جلد اب آ جائے گا میں نیب سے۔ انجینئر ملک شیراز نے لکھا ہے کہ آج کے اخبار میں نیب کی طرف سے قبل لگی ہوئی تھی کہ آپ کی جائیداد کے ریکارڈ منگوائے گئے ہیں نیب نے نوید اقبال نے پنجابی میں لکھا ہے تسی نہ جاؤ۔
تبصروں کا سلسلہ بہت طویل ہے چند دوسرے ہم نے آپ کے سامنے رکھ دیے ہیں اب آپ کو بتاتے ہیں کہنا ربانی کالونی آپ کے درمیان معاملہ کیا ہے جس کے حوالے سے اے آر وائی نے خبر دی تھی۔ خبر یہ دی گئی تھی کہ نیب نے حنا ربانی کھر کو ان کے والد سمیت غیر قانونی اثاثہ جات اختیارات کے ناجائز استعمال اور دیگر الزامات کے تحت پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے حنا ربانی کھر کے پاکستان کی وزیر خارجہ رہ چکی ہیں اور بھارتی دورے کے حوالے سے انہیں بہت شہرت ملی تھی انہوں نے اس خبر کو جھوٹ قرار دے کر تردید کردی اور اے آر وائی کو فیک نیوز قرار دے دیا۔
دوسری جانب میڈیا میں یہ خبریں بھی آئیں کہ نیب کے بورڈ نے 13 انکوائریوں کی اجازت دی ہے جو مختلف سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے خلاف ہیں ان ناموں میں سابق نگران وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ سابق چیئرمین اوقاف صدیق الفاروق سابق سیکریٹری کمیونیکیشن شاہد اشرف تارڑ سابق چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کامران لاشاری سابق ڈائریکٹر غلام سرور سندھو اور دیگر نام بھی بتائے گئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں