ناحق خون بہنے پر آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام نے شہریوں سے معافی مانگ لی

آئی جی سندھ پولیس ڈاکٹر سید کلیم امام نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئےاس بات پر معافی مانگ لی ہے کے مختلف پولیس مقابلوں کے دوران معصوم شہریوں کی ہلاکت کے واقعات انتہائی افسوسناک امر ہے انہیں ان واقعات پر دلی طور پر بہت دکھ اور رنج ہوا ہے ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیے تھا اس لیے وہ سندھ پولیس کی جانب سے تمام شہریوں سے معافی مانگتے ہیں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہو اس کے لیے بھرپور کوشش اور اقدامات کیے جائیں گے ۔
سندھ کے آئی جی ڈاکٹر سید کلیم امام ایک ذہین قا بل اور ذمہ دار پولیس افسر ہیں ان کا کیریئر شاندار کامیابیوں اور خدمات سے بھرا پڑا ہے وہ جہاں بھی رہے اپنے ادارے کے لیے قابل فخر خدمات انجام دیں بطور آئی جی سندھ تعیناتی پر بھی ادارے میں ان کا خیر مقدم کیا گیا تھا اور ان سے بہت توقعات وابستہ کی گئی ہیں لیکن حالیہ چند واقعات کی وجہ سے سندھ پولیس اس وقت شدید دباؤ تنقید کی زد میں ہے شہریوں کا غم و غصہ بھی اپنی جگہ بجا ہے مختلف پولیس مقابلوں میں شہریوں کی ہلاکت اور معصوم بچوں کی ہلاکت سوالیہ نشان ہے کیا ہماری پولیس کی ٹریننگ نہیں ہے کیا انہیں اس بات کی کوئی تربیت نہیں دی گئی کہ وہ اس مقابلوں کے دوران شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کی احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے بڑے ہتھیاروں کے علاوہ چھوٹے ہتھیاروں کا استعمال بھی سکھایا جاتا ہے لیکن چھوٹے ہتھیاروں کے استعمال میں بھی اگر جانی نقصان ہو رہا ہے تو پھر قصور وار کون ہے شہری سوال اٹھاتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات میں جن پولیس اہلکاروں نے غفلت و لاپرواہی برتی ان کے خلاف میں سے کیا ٹھوس کارروائی کی گئی جس کی بنیاد پر یہ یقین کیا جائے گی آئندہ ایسے واقعات نہیں ہوں گے ۔آئی جی سندھ پولیس ڈاکٹر سید کلیم امام نے بے شک گولیاں خود نہیں چلائیں اس لیے وہ کسی بھی واقعے کے براہ راست خود ذمہ دار نہیں قصور وار نہیں لیکن پولیس کا محکمہ ان کے ماتحت ہے پولیس میں ہونے والی اچھائیوں کا کریڈٹ نہیں ملے گا پولیس میں ہونے والی خرابیوں کا انہیں جواب دینا پڑے گا وہ ہی نہیں ان سے پہلے والے آئی جی بھی اور آنے والے آئی جی بی اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرتے رہیں گے یہ بات ضرور قابل ذکر اور قابل ستائش ہے کہ موجودہ آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام نے احساس کیا اور شہریوں سے ایک پولیس کی جانب سے معافی مانگ لی ہے اگرچہ کے اس معافی سے وہ معصوم جانے واپس نہیں آ سکتی جو چلی گئی ہیں لیکن یہ احساس بھی بہت غنیمت ہے اللہ کرے کہ ڈاکٹر سید کلیم امام جیسا جذبہ اور احساس تمام پولیس افسران اور اہلکاروں میں موجود رہے ۔