پی آئی اے کے چیف آپریٹنگ آفیسر کے قریبی ملازم پر خاتون افسر کا جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام

پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کی خاتون افسر نے ساتھی ملازم پر جنسی طور پر ہراساں اور بلیک میل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اپنی تحریر شکایت پی آئی اے کے چیف آپریٹنگ افسر کو بھیج دی ہے۔ خاتون نے اپنی شکایت میزان لگایا ہے کہ سی ای او کے قریبی کام کرنے والے ملازم نے پی آئی اے کے اسلام آباد آفس میں بلیک میل کیا ان کے موبائل پر موصول ہونے والے پیغامات کا ریکارڈ بھی ان کے پاس محفوظ ہے خاتون کے مطابق انھوں نے حکام کو مختلف مقامات پر شکایت کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا انہوں نے تحریری شکایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ان کی شکایات پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو وہ وزیراعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف آف ایئر اسٹاف کو اسکی شکایت کریں گے پی آئی اے کے سی ای او نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے شکایت کو خواتین تحفظ کمیٹی کے پاس بھیج دیا ہے اور انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے دوسری طرف پی آئی اے کے ترجمان مشہود تاجور نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ کمیٹی کی تحقیقات کے بعد ہی کامران ایم کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی ان کا کہنا تھا کہ ایئرلائن کے سخت انتظامی اقدامات جن میں ٹرانسفر پر پابندی اور اسلاف کو وقت پر آنے کے لیے زبردستی کرنا شامل ہے کے بعد سے ہراساں کرنے کے الزامات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ترجمان کے مطابق جس جگہ جنسی طور پر ہراساں کرنے کا جو الزام لگایا گیا ہے وہ جگہ ایک بڑا اور کھلا ہوا حصہ ہے جہاں دھیمی سی آواز بھی نظر انداز نہیں ہو سکتی۔ اس کے باوجود ان پر کمیٹی کی رپورٹ آنے کا انتظار کرنا چاہیے۔