پاکستان میں اسلامی صدارتی نظام لانے کے لیے فرانسیسی صدارتی نظام کو ماڈل بنانے پر بحث شروع

پاکستان میں ایک مرتبہ پھر اسلامی صدارتی نظام متعارف کرانے کا شوشہ چھوڑا گیا ہے اس پر بحث بھی شروع ہو گئی ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے صدارتی نظام کی مخالفت کرتے ہوئے کھل کر کہا ہے کہ اس کی حمایت نہیں کرتے اور ایسی کسی بھی کوشش کو روکا جائے گا صدارتی نظام کو ہم روکیں گے۔ دوسری طرف سیاسی حلقوں میں یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ کس قسم کا صدارتی نظام لانے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہ آئیڈیا کہاں سے اور کس نے دیا ہے ۔صدارتی نظام کا مطلب پارلیمانی نظام پر عدم عتماد ہے یعنی جو لوگ صدارتی نظام لانا چاہتے ہیں کیا وہ پارلیمنٹ کو ختم کرنا چاہتے ہیں صدارتی نظام لانے کا دوسرا مطلب یہ ہوگا کہ وزیراعظم کے گھر بھیجا جائے تو کیا ہے جو لوگ صدارتی نظام کی حمایت کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم جو کے عوام کے مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آتا ہے اسے ایک بے اختیار کرکے گھر بھیج دیا جائے اور اس کی جگہ ایک طاقتور صدر کو بٹھا لیا جائے ماضی میں ایوب خان اور یحییٰ خان کے دور میں اور اس کے بعد جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھی اس طرح قسم کا تجربہ کیا جاچکا ہے لیکن اس کے نتائج اچھے نہیں نکلے تھے اس لیے پاکستان کو دوبارہ پارلیمانی نظام کی طرف جانا پڑا۔ یہ بحث بھی کی جا رہی ہے کہ کون سا صدارتی نظام۔ کیا امریکی صدارتی نظام یا فرانسیسی صدارتی نظام یا افغانستان کا صدارتی نظام۔ جوں جوں یہ بحث آگے بڑھ رہی ہے اس کے حق میں آنے والے دل ایسے ہی اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ زیادہ تر لوگ فرانسیسی صدارتی نظام کو ماڈل کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور اب اس کے حق میں دلائل بھی شروع ہوگئے ہیں اور فرانسیسی صدر کا حوالہ دیا جا رہاہے جنہوں نے یہ نظام فرانس میں انقلاب کے بعد متعارف کرایا گیا۔ سیاسی حلقوں میں توقع کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں فرانسیسی صدارتی نظام کے حق میں بیانات دلائل تقریر اور مقالے پڑھے جانے کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا عمران خان کو ہی صدر پاکستان بنایا جائے گا اگر نہیں تو پھر عمران خان کسی نئے صدارتی نظام کا راستہ کیسے ہموار کریں گے۔ وہ ایسا کیوں چاہیں گے؟ کیا وہ خود اسمبلی تحلیل کر کر صدارتی نظام کا راستہ بنائیں گے کیا وہ بھی ذوالفقار علی بھٹو کی طرح خود صدر پاکستان بھی بن جائیں گے۔ یا یہ کوئی نیا منصوبہ ہے جو عمران خان کے بغیر آگے بڑھایا جائے گا اور اس کے نئے کردار آگے جا کر سامنے آئیں گے۔ سیاسی الاقوامی بحث جاری ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت سرکردہ سیاستدان کے اس منصوبے سے کافی حد تک آگاہی حاصل کر چکے ہیں لیکن ابھی عوام کو پورا خاکہ نہیں بتایا جارہا آصف زرداری نے صرف اتنا کہا ہے کہ صدارتی نظام کہ ہمیں نہیں ہیں ایسی کوششوں کی مخالفت کریں گے اور ہماری کوشش ہوگی کہ صدارتی نظام کو روکا جائے۔ بعض حلقوں میں یہ بحث بھی ہو رہی ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح بھی صدارتی نظام سے متاثر تھے پرندے نزدیک بھی فرانس کا صدارتی نظام زیادہ بہتر تھا لیکن انہوں نے پاکستان کا نظام حکومت کیا ہوگا اس حوالے سے فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا تھا اور دستور سازی کے کام میں کوئی مداخلت نہیں کی تھی۔ پاکستان میں ایوب خان یحییٰ خان اور ضیاالحق نے صدارتی اختیارات کو بھرپور طریقے سے انجوائے کیا۔ جنرل پرویز مشرف مضبوط صدر تھے. لیکن ان سب کے جانے کے بعد پاکستان میں دوبارہ پارلیمانی نظام نہیں مضبوط نظر آیا۔ آصف علی زرداری بااختیار صدر تھے لیکن انہوں نے اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو یعنی کے وزیراعظم کو سونپ دیئے اور ایک نئی تاریخ رقم کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں