اسپیکر پاگل ہوگیا ہے تبدیل کیا جائے … پی ٹی آئی کا مطالبہ

کراچی . سندھ اسمبلی کا اجلاس بدھ کو بھی اپنے مقررہ وقت پر نہ ہوسکا اور ایوان کی کارروائی ڈپٹی اسپیکر ریحانہ لغاری کی زیرصدارت ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوئی،کارروائی کے دوران پی ٹی ائی کے رکن اسمبلی خرم شیر زمان اور اسپیکر آغا سراج درانی کے درمیان جھڑپ ہوگئی جس کے بعد خرم شیر زمان اور دیگر اپوزیشن ارکان نے ایوان سےاحتجاجاً واک آﺅٹ بھی کیا،اپوزیشن ارکان نے غنڈہ گردی نہیں چلے گی کے نعرے بھی لگائے ایوان سے باہر جاتے ہوئے پی ٹی آئی کی خاتون رکن ڈاکٹر سیما ضیاء نے غصے کے عالم میں کہا کہ اسپیکر پاگل ہوگیا ہے اسے تبدیل کرو، وقفہ سوالات کے دوران بھی ایوان کا ماحول کشیدہ رہا اور نوک جھونک ہوتی رہی۔لی۔ایوان نے تھرکول انرجی منصوبوں اور تھرمیں ترقیاتی کاموں پر خراج تحسین کی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کرلی ۔ایوان نے اپنی کارروائی کے آغاز میں سچل تھانے کی حدود میں پولیس فائرنگ سے ایک بچے کی ہلاکت پر افسوس کااظہارکیا۔محکمہ زکواة و عشر سے متعلق جب وقفہ سوالات شروع ہوا تو اپوزیشن ارکان کے پے درپے سخت سوالات نے صوبائی وزیر زکواة فراز ڈیرو کو پریشان کردیا اور کئی مواقع پر انہیں جواب دینا مشکل ہوگیا۔ پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان نے کہا کہ سیاسی وابستگی کے حامل لوگ زکواة کمیٹیوں کے چیئرمین ہیں جس کی وجہ سے زکواة کے پیسے بھی صرف سیاسی بنیادوں پر ہی فراہم کئے جاتے ہیں، جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے کہا کہ درگاہوں کی تعمیر ومرمت میں ناقص میٹیریل استعمال ہوتاہے ،کمیشن لیکر ٹھیکیداروں کو کام دیا جاتا ہے جو بڑی شرمناک بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اندر کی سب خبریں ہیں معلوم ہیں کہ محکمہ زکواة میں کیا ہورہا ہے18ملین روپے خرچ کرنے کے باوجود کوئی کام پورا نہ ہوسکا۔ اس موقع پر حکومتی بنچوں سے صوبائی وزیر فراز ڈیرو کی مدد کرنے کی کوشش کی گئی تو نصرت سحر عباسی نے پرچیوں کے ذریعے فراز ڈیرو کی مدد پر اعتراض کیا اور کہا کہ ایوان میں موجود دیگر وزرا فراز ڈیرو کی پرچیوں سے مدد کررہے ہیں۔ قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ وزیر صاحب سوالوں کا واضح جواب نہیں دے رہے اور آئینں بائیں شائیں کے ذریعے ایوان کا وقت ضائع کیا جارہا ہے۔ نصرت سحر عباسی نے دریافت کیا کہ کیا قانون کے تحت ترقیاتی اسکیموں کا ٹھیکہ نجی کمپنیوں کو دیا جاسکتا ہے؟جس پر فراز ڈیرو نے کہا کہ اسکیموں کے لیے اوپن ٹینڈر دیئے جاتے ہیں، فراز ڈیرو نے بتایا کہ جامع مسجد سکھر کی اسکیم جون 2018 میں شروع ہوئی تھی جو جون 2019 میں مکمل ہوگی۔وقفہ سوالات کے دوران نصرت سحر عباسی نے کہا کہ ہاﺅس میں چیٹنگ ہورہی ہے جس پر اسپیکر نے انہیں ڈانٹ دیا اور کہا کہ آپ صرف ضمنی سوال کریں، آپ کی تقریریں بہت سنی ہیں۔ توجہ دلاﺅ نوٹس کے موقع پر پی ٹی آئی کے شاہنواز جدون نے اپنے ایک توجہ دلاﺅ نوٹس کے ذریعے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی ابتر کارکردگی اور کچرے کے ڈھیر کی جانب توجہ مبذول کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلع غربی میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے کام بند کردیاہے، کیماڑی سلطان آباد اور دیگر علاقوں میں بھی جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ وزیربلدیات سعیدغنی نے ضلع غربی میں کچرے کےڈھیرکا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ کہ ضلع غربی میں واقعی کچرے کے ڈھیرموجودہیں، انہوں نے کہا کہ ضلع غربی میں کچرہ اٹھانے والی کمپنی نے کنٹریکٹ کی خلاف ورزی کی ضلع غربی میں کچرہ اٹھانے کاکام اب ڈی ایم سی کےسپرد کردیا گیاہے ۔سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے متعلقہ کمپنی کےخلاف کاروائی کی ہے۔جی ڈی اے کے عارف مصطفی جتوئی نے اپنے ایک توجہ دلاﺅ نوٹس کے زریعے اس امر کی نشاندہی کی کہ علی گل خاصخیلی نامی ایک شخص کومحکمہ قانون میں تعینات کیا گیا اس شخص کے خلاف سنگین جرائم کے ساتھ ساتھ سندھ کی بیٹی کےساتھ زیادتی کاالزام بھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ شرمناک بات ہے کہ سنگین جرائم کرنیوالا دوبارہ بھرتی ہوگیا ہے ۔جس پر وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چاﺅلہ نے کہا کہ عارف جتوئی لڑکیوں کی طرح انگلیاں اٹھارہے ہیں،سندھ حکومت کو جب علی گل خاصخیلی کے بارے میں پتہ چلا ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔ ایوان کی کارروائی کے دوران اس وقت سخت شور شرابہ ہوگیا جب اسپیکر آغا سراج درانی نے خرم شیر زمان کوبات کرنے سے روکنے کی کوشش کی اس موقع پردونوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ۔آغا سراج نے کہا کہ میں کسی کی ڈکٹیشن نہیں لیتا، میں تمہیں اچھی طرح جانتا ہوں، میری ضمانت ہوجائے توتم مجھ سے باہر آکر ملنا اسپیکر نے کہا کہ جسطرح آپ چاہتے ہیں اس طرح میں ہاﺅس نہیں چلاﺅں گا۔ اسپیکر کے ان ریمارکس پر اپوزیشن ارکان نے ایوان میں شور شرابہ اور نعرے بازی شروع کردی وہ غنڈہ گردی نہیں چلے گی کے نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے واک آﺅٹ کرگئے۔ جس وقت اپوزیشن کے ارکان ایوان سے باہر جارہے تھے پی ٹی آئی کی خاتون رکن ڈاکٹر سیما ضیاء نے غصے کے عالم میں کہا کہ اسپیکر پاگل ہوگیا ہے اسکو تبدیل کرو، انہوں نے سرکاری بنچوں پر بیٹھے ہوئے ارکان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا کہ آپ سب غنڈے ہو جس پر اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ مجھے ان سب کی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا،میں پہلے بھی اس قسم کی باتیں کرنے والوں کو معاف کرنے کا اعلان کرچکا ہوں۔کارروائی کے دوران جی ڈی اے کے عارف مصطفیٰ جتوئی نے اپنی ایک تحریک استحقاق جو بجٹ تجاویز ایوان میں پیش نہ کرنے سے متعلق تھی اور ماروی راشدی نے اپنی ایک تحریک التوا واپس لے لی۔ ایوان نے تھرکول انرجی منصوبوں اور تھرمیں ترقیاتی کاموں پر خراج تحسین کی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کرلی جو پیپلز پارٹی کے ارباب لطف اللہ نے پیش کی تھی۔قرارداد میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے وژن اور آصف زرداری کی لگن پر جس کے نتیجے میں تھر کول کا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔ ارباب لطف اللہ کا کہنا تھا کہ سندھ نے اپنے وسائل ہمیشہ وفاق کودئیے ہیں مگر وفاق نے سندھ کا پیسہ روکے رکھا ہے اورتھرکی بجلی فیصل آباد کودی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے تھرمیں اپنے گھرقبرستان گائوں ملک کے لئے چھوڑے مگر فنڈز کی کمی کی وجہ سے تھرمیں پانی کی اسکیمز شروع نہیں ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تھر میں انسانی المیہ جنم لے رہا ہے، پیپلزپارٹی نے ملکی سالمیت پرکبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ تھرکے لوگوں کی قربانی کو اہمیت دی جائے ،ہم بھکاری نہیں نہ ہمیں گندم نہیں چاہیے۔ قرارداد کی منظوری کے بعد اسپیکر نے اجلاس کل جمعرات کی دوپہر ایک بجے تک ملتوی کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں