اسپیکر آغا سراج درانی … آنے والا مورخ جب اس صورت حال کو قلم بند کرے گا؟

تاریخ بتاتی ہے کہ اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیز الدین ایک مرتبہ برقع پہن کر اجلاس کی صدارت کرنے پہنچے تھے جب وہ اور اس وقت کی اسمبلی ڈکٹیٹرز کے گھیرے میں تھی۔ مگر آج ایک اسپیکر جو قید میں ہے اور جیل سے آکر اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت کر رہا ہے وہ اسپیکر آغا سراج خان درانی نیب کے کیس کے ملزم کی حیثیت سے جیل میں ہیں اور جیل سے بکتر بند گاڑی میں بیٹھ کر سندھ اسمبلی آتے ہیں۔ آغا سراج درانی نے بھی ایک تاریخ رقم کردی ہے اور بحیثیت اسپیکر سندھ اسمبلی آکر اجلاس میں نہ صرف شرکت کرتے ہیں بلکہ اجلاس کی صدارت بھی کرتے ہیں پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن کے ارکان بھی ان کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کرتے ہیں آغا سراج درانی کے والد آغا صدرالدین سندھ اسمبلی کے اسپیکر رہے آغا صدرالدین کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بہت مہذب اور قابل اسپیکر تھے. جیل سے آکر ایک قیدی اسپیکر کیا محسوس کرتا ہے وہ تو آغا سراج درانی ہی بہتر جانتے ہیں مگر نیب کے لیے یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے وہ بار بار عدالتوں سے درخواستیں کرتے رہے کہ اگر صرف ان کی قید میں رکھنے کی اجازت دی جائے مگر عدالت نے آغا سراج درانی کو جیل بھجوا دیا ہے وہ جیل سے قانون کے تحت اسمبلی میں آتے ہیں اسمبلی بلانے کے لیے اسپیکر خود جیل حکام کو خط کے ذریعے آغا سراج درانی لانے کا حکم بھی دیتے ہیں۔ آنے والا مورخ جب اس صورت حال کو قلم بند کرے گا تو یقینا دلچسپ انداز میں تبصرے کرے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں