پولیس احتساب سے بالاتر نہیں. مرتضیٰ وہاب

وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر اطلاعات قانون و اینٹی کرپشن بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ احتساب سب کا ہونا چاہئے پولیس بھی احتساب سے بالاتر نہیں ہے ہم جو قوانین بنا نے جارہے ہیں اس میں کسی بھی قسم کی مداخلت کا تصور نہیں ہے اگر کسی شہری کے ساتھ کوئی ناانصافی ہوئی ہے تو اسے انصاف دینگے اگرکسی شہری کے ساتھ ناانصافی ہوگی تو کمیٹی فیصلہ کریگی کمیٹی میں سول سوسائٹی کے نمائندے شامل ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ اسمبلی میں میڈیا کارنر پرصحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ پولیس کا کام پولیسنگ کرنا ہے یہ کونسا طریقہ ہے کہ پولیس عوام پر فائرنگ کرے اور ان کی جانوں سے کھیلے ہم چاہتے ہیں کہ بہتری لائیں اور قانون کو مزید بہتر بنائیں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور کے پی کے پولیس حکومت کے ماتحت ہے لیکن اعتراضات سندھ حکومت پر اٹھائے جاتے ہیں بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پولیس کو بڑا اسلحہ رکھنا چاہئے مگر عوامی مقامات پر استعمال کرنا مناسب نہیں ہوگا وزیراعلیٰ ہاﺅس کے باہر ہم نے پولیس کو بڑے اسلحہ رکھنے سے روکا ہوا ہے لیکن کیا بات ہے کہ شہریوں پر بڑا اسلحہ استعمال کیا جارہا ہے۔ گزشتہ رات والے واقعہ سمیت چھ واقعات پیش آئے ہیں ہم چاہتے ہیں کوئی ادا رہ بے لگام نہ ہو۔ میڈیا کے ذریعے اور دیگر ذرائع سے افواہیں پھیلائی جاتی ہیں کہ پولیس کو اختیارات حاصل نہیں انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہاﺅس کے باہر بڑا اسلحہ موجود نہیں لیکن شہر کے کئی علاقوں میں اسلحہ کی نمائش کی جاتی ہے سندھ حکومت نے بارہا کہا کہ شہری علاقوں میں بھاری اسلحہ استعمال نہ کیا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نشواہ کا والد حکومت سے مدد مانگ رہا ہے ارشاد رانجھانی کو بے دردی مارا گیا پڑی ہوئی لاش پر سیاست کی گئی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جنوری 2019کو 3بڑے اداروں این آئی سی وی ڈی ،این آئی سی ایچ اور نیشنل میوزیم کو وفاق کے حوالے کرنے کا فیصلہ دیا تھا لیکن 90رو ز مکمل ہو گئے وفاق نے کنٹرول حاصل کرنےکی کوشش نہیں کی صرف بڑے بڑے دعوے کئے گئے وفاقی حکومت نے ان اداروں کے لئے کوئی بجٹ مختص نہیں کیا اور نہ ہی سندھ حکومت سے بات کی صرف میڈیا پر پوائنٹ اسکورنگ کی گئی اور کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ان تینوں اداروں کی بہتری کے لئے سندھ حکومت نے عملی اقدامات اٹھائے ہیں اور ان اداروں کی حوالگی کے حوالے سے نظرثانی کی درخواست داخل کی گئی ہے اور وزیر اعلیٰ سندھ نے ہدایت دی ہے کہ محکمہ صحت کو خط لکھا جائے جس میں کہا جائے کہ وہ صرف عملے کی تنخواہیں دیں باقی اخراجات ہم خود اٹھائیں گے اور ان اداروں کو سیاست کی نظر نہیں ہونے دیں گے اور عوام کو دی جانے والی سہولیات کو مزید بہتر کریں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کراچی کے مسائل کے حوالے سے اختیارات کا رونا نہ رویا جائے اور کام کیا جائے اختیارات وزیراعلیٰ کے پاس رہیں گے ہم نے ہی شہر کو روشنیوں کے شہر میں تبدیل کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں