میاں منظور احمد وٹو وزارت اعلیٰ پنجاب کے لیے مضبوط امیدوار بن گئے

پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ میاں منظور احمد وٹو ایک مرتبہ پھر ملک کے سب سے بڑے صوبے کی سب سے بڑی سیٹ سنبھالنے کی تیاریاں کر رہے ہیں ماضی میں وہ چوہدری برادران اور پھر پیپلز پارٹی کے وفادار رہے اور پھر پی ٹی آئی کو پیارے ہوگئے اس سے پہلے انہوں نے پاکستان مسلم لیگ جونیجو اور پاکستان مسلم لیگ جناح کے پلیٹ فارم سے بھی سیاست کی بھارتی پنجاب کے شہر فاضلکا میں پیدا ہونے والے میاں منظور احمد وٹو نے پاکستان میں چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل اوکاڑہ 1983 میں اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا اور انیس سو ترانوے میں وزیر اعلیٰ پنجاب بنے بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں انہوں نے انیس سو چھیانوے تک وزارتی اعلی پنجاب کے مزے چکھے میاں منظور احمد وٹو کے دو صاحبزادے خرم جہانگیر وٹو سابق ایم این اے اور موسم جہازیب بھٹو سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں جبکہ ان کے صاحبزادے روبینہ شاہین وٹو سابق ایم این اے اور سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں ۔
عمران خان کے لاڈلے وزیراعلی بوزدار پنجاب میں مطلوبہ نتائج نہیں دے پا رہے اس لیے عمران خان پریشان ہیں اور پنجاب میں تبدیلی پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے مختلف سطحوں پر ہونے والی مشاورت میں یہی نتیجہ سامنے آیا ہے کہ پنجاب میں ایک مضبوط وزیراعلی درکار ہے پی ٹی آئی کے پاس یوں تو وزارت اعلیٰ کے لئے بہت سے نوجوانوں کے نام ہیں لیکن عمران خان پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ کسی تجربہ کار اور مضبوط اعصاب کے مالک شخص کو پنجاب کا وزیر اعلی بنائیں جو شہباز شریف اور حمزہ شہباز کا مقابلہ کرسکے ماضی میں میاں منظور احمد وٹو یہ کام بخوبی انجام دے چکے ہیں ۔
میاں منظور احمد وٹو اس وقت پنجاب اسمبلی کے رکن نہیں ہیں یہ ایک نکتہ ہے جس پر بوزدار کو مزید وقت مل سکتا ہے پہلے مرحلے میں میاں منظور احمد وٹو کو پنجاب اسمبلی کا رکن بنایا جائے گا اور اس کے بعد وہ وزارت اعلیٰ کے امیدوار بن جائیں گے اس وقت تک بول دار کو اپنے معاملات بہتر طریقے سے سمبھالنے کا آخری موقع ملے گا ۔پی ٹی آئی کی حکومت نے گذشتہ کچھ دنوں سے اپنے خلاف آنے والے اشاروں کو بھانپ لیا ہے جس طرح شریف خاندان کے مختلف افراد کو مختلف کیسوں میں ریلیف ملا ہے اسے پی ٹی آئی کی قیادت اپنے لئے خطرہ سمجھتی ہے شہباز شریف حمزہ شہباز دوبارہ طاقت پکڑ رہے ہیں۔
مسلم لیگ نون کی قیادت کا یہ موقف ہے کے نیب حکومت کے ایما پر شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف سمیت شہباز شریف کے گھر کی خواتین کو نوٹس بھیج رہا ہے اور سوچے سمجھے انداز میں شہباز شریف اور ان کے گھر والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔
سابق نگران وزیر اعظم اور سینئر سیاستدان چوہدری شجاعت حسین کا یہ کہنا کہ کسی کی بیٹیوں کو نوٹس ملنا کوئی نئی بات نہیں ہمارے ساتھ بھی ایسا ہو چکا ہے اس بات سے زیادہ ہوتا ہے کہ چودھری شجاعت حسین بھی صورتحال سے باخبر ہیں اور وہ پی ٹی آئی کی حکومت کا بھر پور ساتھ دے رہے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں