قصہ وزیراعظم عمران خان کی ایران کے مرحوم صدر رفسنجانی سے بات کرنے کا؟

یہ اعزاز بھی پاکستان تحریک انصاف کے وفاقی وزراء کے سر جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے محبوب وزیر اعظم عمران خان کی محبت میں گرفتار ہو کر ان کی بات ایران کے مرحوم صدر رفسنجانی سے کرانے کا اعلان کردیا . ہوا کچھ یوں کوئٹہ میں ہزارگنجی دہشت گردی واقعے کے بعد احتجاج کرنے والے ہزارہ برادری کے افراد کا احتجاجی دھرنا ختم کرانے کے لیے جب وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی وہاں پہنچے تو انہوں نے جوش خطابت میں یہ بھی فرما دیا کہ وزیراعظم عمران خان کی ایرانی صدر رفسنجانی سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے ۔یقینا وزیر مملکت ایران کے موجودہ صدر کا ذکر کرنا چاہ رہے تھے لیکن ان کی زبان پر مرحوم صدر رفسنجانی کا نام آگیا جو 2017 میں انتقال فرما چکے ہیں ۔

تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے ایک ایسے وقت میں جب بہت سے مسائل درپیش ہیں ان حالات میں ایران کو بہت اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے ایران میں خود بھی اسلاف سے کافی تباہی ہوئی ہے اور وزیراعظم عمران خان  21 اور 22 اپریل کو ایران کا دورہ کرنے جا رہے ہیں پاکستان میں باالخصوص بلوچستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں عام تاثر یہ ہے کہ جنداللہ اور دیگر تنظیمیں ملوث ہیں اور جنداللہ کو ایران میں مدد ملتی ہے امید کی جارہی ہے کہ وزیر اعظم کے دورہ ایران میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ یہ معاملہ بھی زیر بحث آ سکتا ہے ۔ماضی میں ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی پاکستان میں گرفتاری منظر عام پر آئی تھی اور کلبوشن ایران کے راستے پاکستان آیا تھا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں