نواز شریف نظریاتی کب ہوئے؟

ملک کی اکثر سیاسی محفلوں میں یہ بحث ہوتی رہتی ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف درحقیقت نظریاتی کب ہوئے۔ وہ خود سے نظریاتی بن گئے یا ان کے آئی کوئی پیر صاحب ہیں جنہوں نے انہیں نظریاتی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر ان کے کوئی پیر صاحب ہیں تو کیا انہوں نے شہباز شریف کو نظریاتی نہیں بنایا ۔۔۔۔۔یا شہباز شریف نظریاتی کیوں نہیں بن سکے ۔

یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ ضیاء الحق کے دور میں جنرل جیلانی نے میاں محمد شریف سے کہا تھا کہ اپنا ایک بیٹا سیاست کے لیے وقف کردیں ہمیں ضرورت ہے ۔

مرحوم میاں محمد شریف نے شہباز شریف اور عباس شریف کو اتفاق فون ری اور بزنس کے لیے مخصوص رکھا اور نواز شریف کو سیاست میں لانے کا فیصلہ کیا ۔یو نواز شریف پہلے سیاست میں آئے۔ تحریک استقلال سے ہوتے ہوتے پنجاب کے وزیر خزانہ بنے کے وزیراعلیٰ پھر قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہوئی اور وہ ملک کے وزیراعظم بنے۔ ایک بار نہیں تین بار۔

شہباز شریف ان کے بعد سیاست میں آئے اور وزیراعظم نواز شریف کی سیاسی کامیابیوں کی بدولت ہی شہباز شریف ان کے ساتھ ساتھ ہم سفر رہے اور وزیر اعلی پنجاب بنے ۔

جب تک ابا جی زندہ تھے شہباز شریف اور نواز شریف وہی کچھ کرتے تھے جو اب جی کہتے تھے ۔

صدر غلام اسحاق خان کے دور میں بھی نواز شریف وہ ہٹا کر شہباز شریف کو آگے لانے کی کوشش کی گئی اب باجی کو پیغام بھیجا گیا ۔

نواز شریف نے اپنی مشہور زمانہ تقریر
میں استعفی نہیں دونگا میں اسمبلی نہیں توڑوں گا میں ڈکٹیشن نہیں لونگا

کے دوران بھی یہ بات کہی تھی کہ اقتدار کی ہڈی کہا کہ انہیں پھینکی گئی خود میرے گھر میں میرے بھائی کو لالچ دیا گیا ۔

لیکن شہباز شریف انواع شریف ہمیشہ ایک رہے اب باجی ان کی نگرانی کرتے رہے اور معاملہ چلتا رہا ۔

انیس سو ننانوے میں کارگل کی مہم جوئی سے لے کر 12 اکتوبر 1999 کو تختہ الٹنے تک نواز شریف اور شہباز شریف کے سوچ میں واضح فرق تھا لیکن دونوں بھائی گرفتار ہوئے دونوں بھائیوں پر ہائی جیکنگ کا کیس بنا شہباز شریف باقی تمام ملزمان سمیت 22 تدری ہوئے نواز شریف کو عمر قید کی سزا ہوئی ۔مشرف حکومت نے پوری کوشش کی کہ عمر کے عہد کو پھانسی میں تبدیل کرایا جائے اور بری ہونے والوں کو دوبارہ سزا دی جائے ۔

سعودی عرب بیچ میں آیا اور نواز شریف خاندان سمیت سعودی عرب پہنچ گئے ۔

ایک زمانے میں ضیاء الحق کے مشن کو پورا کرنے کا اعلان کرنے والے نواز شریف انیس سو ننانوے میں جیل کاٹنے اور پھر جلاوطن ہونے کے بعد نظریاتی ہو کر اقتدار میں واپس آئے ۔

جلا وطنی کے دوران بے نظیر بھٹو کے ساتھ مل کر میثاق جمہوریت کرنا اور اس کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت معزول ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کی عدلیہ بحالی تحریک کا ساتھ دینا اور اپنی سربراہی میں لانگ مارچ کرنا اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ نظریاتی ہو چکے تھے ۔

لیکن اعتراض کرنے والے یہ سوال ضرور پوچھتے ہیں کہ کیا کوئی نظریاتی شخص کسی اشارے پر یوں عدالت جاتا ہے جس طرح نوازشریف کالا کوٹ پہن کر میمو گیٹ اسکینڈل کیس میں عدالت گئے تھے ۔

اگر یہ بات مان لی جائے کہ وہ تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے سے پہلے نظریاتی ہو چکے تھے تو پھر انہوں نے جنرل مشرف اور دیگر ساتھیوں کے خلاف آتے ہیں سخت سے سخت قدم کیوں نہ اٹھایا مشرف کا ساتھ دینے والوں کو اپنے ساتھ کیوں بٹھایا ۔میثاق جمہوریت پر شک ہوا عمل درآمد یقینی کیوں نہ بنایا ۔اپنے وزراء اور اپنے ساتھیوں کے خلاف آنے والے دباؤ کو قبول کیوں کیا اور ان کو ایک ایک کرکے اردو سے کیوں پیچھے ہٹایا ؟

اگر وہ نظریاتی نہیں تھے تو پھر خود کو نظریاتی کیوں کہتے تھے ؟اگر دل سے نظریاتی تھے تو اپنی باتیں زبان پر کیوں نہیں لاتے تھے باقیوں کو تو چھوڑیں اپنے بھائی کو ہم نوا کیوں نہ بنا سکے؟ کیا نواز شریف نے سیاسی فیصلوں میں اپنی اہلیہ اور بیٹی کی رائے کو زیادہ اہمیت دے کر اپنے لیے مسائل پیدا کیے ۔کیا اسی وجہ سے ان کے بھائی شہباز شریف اور شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز کی رائے ان کے فیصلوں سے مختلف ہوتی چلی گئی ۔
عدالت سے نااہل ہونے اقتدار سے محروم ہونے اور پھر اسلام آباد سے لاہور واپسی کے سفر کے دوران ووٹ کو عزت دو ۔۔۔۔کاجو بیانیاں نواز شریف نے اختیار کیا اور جس کی بنیاد پر انتخابی مہم چلائی گئی آخر اسے شہباز شریف حمزہ شہباز نے اس شدت سے طبیعت کیوں نہ دیں جس کی وہ خود ضرورت محسوس کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔لندن سے واپس آکر جیل جانے اور اب جیل سے گھر واپس آنے کے بعد کیا آج بھی وہ نظریاتی ہیں یا اب انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ حالات کا تقاضا ہے کہ شہباز شریف کے بیانیے کو آگے بڑھایا جائے؟
نواز شریف کے زبردست حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر نواز شریف نے ہتھیار ڈالنے ہوتے اگر نواز شریف نے حرمانی ہوتی تو وہ 12 اکتوبر 1999 کو بھی استعفی لکھ کر دے سکتے تھے اور 2013 میں برسراقتدار آنے کے بعد بھی صلح جوئی کر سکتے تھے لیکن انہوں نے اصولی سیاست اپنائیں اور اپنے اصولوں پر ڈٹ گئے۔ جبکہ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے سیاسی غلطیاں کیں اور اب ٹھنڈے دماغ سے انہیں اپنی غلطیوں پر غور کرنا چاہیے ۔

نواز شریف کے حامی سمجھتے ہیں کہ غلطیاں صرف نواز شریف نے نہیں کی بلکہ نواز شریف سے بڑی غلطیاں ان کے مخالفین نے کی ہیں ۔۔نواز شریف اس ملک کی اکیلے وزیراعظم نہیں جینے کے گھر سے نکالا گیا ہو بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ آج تک کسی وزیراعظم کو پوراکرنے ہی نہیں دیا گیا ۔غلطیاں صرف سیاستدانوں کی نہیں ہیں کچھ اور دماغ بھی ہیں جنہیں اپنی غلطیوں پر غور کرنا چاہیے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں