پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت اپنا پولیس ایکٹ لاکر سندھ پولیس کو کنڑول کرنا چاہتی ہے. حلیم عادل شیخ

کراچی ۔ پی ٹی آئی کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت اپنا پولیس ایکٹ لاکر سندھ پولیس کو کنڑول کرنا چاہتی ہے سندھ کے عوام ہوشیار ہوجائیں نیب زدہ لوگ سندھ اسمبلی کے ایجنڈے کو بلڈوز کررہے ہیں وہ گزشتہ روز سندھ اسمبلی اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کررہے تھے پی ٹی آئی رکن اسمبلی اسلم ابڑو، راجہ اظہر سمیت دیگر انکے ہمراہ تھے۔پولیس ایکٹ کے سندھ اسمبلی میں پیش کئے جانے سے قبل ہی حلیم عادل شیخ نے مجوزہ ایکٹ کے خلاف قراداد سندھ اسمبلی میں جمع کرادی جب ان سے پولیس ایکٹ کی متنازعہ شق سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے شق کے بجائے مشیر اطلاعات سندھ بیرسٹر مرتضی وہاب کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیا۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ کل ہم نے دیکھ لیا کہ ایوان میں اسپیکر ڈکٹیٹر کی صورت میں بیٹھے ہیں قرارداد پر ہمارا بھی حق تھا بولنے کا مگر ہمیں بولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ہمارا سندھ پر اُصولی موقف ہے عمران خان کے خلاف یہ لوگ قرارداد لیکر آگئے مودی سے متعلق بیان پر۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری تو اپنے بیان سے بھارتی فضائیہ کی ترجمان لگ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی کو گھر کی لونڈی بنایا جارہا ہے نیب زرہ لوگ اسمبلی کے بزنس کو بلڈوز کررہے ہیں۔ میں سندھکے عوام کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پیپلزپارٹی سندھ پولیس کو اپنے کنٹرول میں لانا چاہ رہے ہیں۔ وزراء کے رشتے دار اینٹی کرپشن میں لگا دئیے گئے ہیں وہاب میمن اور راؤ انوار جیسا انہیں ایس پی چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیکب آباد میں نیب زدہ پیپلزپارٹی کے اعجاز جکھرانی نے اندھیر نگری مچائی ہوئی ہے میں سوال کرتا ہوں کہ باردانہ کا کیا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی کی بھی کہیں پیشی ہے سندھ کے عوام لوٹ مار کا حساب لیگی تحریک انصاف جعلی وصیت کی پیداوار نہیں ہے آپ لوگ تو بھٹو اور بی بی کا کھا رہے ہیں۔ دس سال میں انہوں نے اٹھارہ بسیں چلائی تھیں وہ بھی بند کردی ہیں۔ پیپلزپارٹی صرف چار ڈیویژنوں کی پارٹی رہ گئی ہے۔ اس موقع پر اسلم ابڑو نے کہا کہ لاڑکانہ کے بعد سندھ میں سب سے زیادہ بجٹ جیکب آباد کو ملا ہے لیکن اس شہر کا بُرا حال ہے انکے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کرپشن میں ملوث ہیں مگر انکا کچھ نہیں ہورہا آخر نیب کرکیا رہا ہے؟ نیب انکے خلاف متحرک ہو شکایات کے باوجود انکے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی جی پولیس کی تبدیلی ایگزیکٹیو کا اختیار ہے۔ یہ پولیس کے محکمے کو بھی اپنے اختیار میں رکھنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے قرارداد مشیر اطلاعات کی پریس کانفرنس کے بعد پولیس ایکٹ سے متعلق جمع کرائی ہے۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں