سندھ اپنے آئینی حق کے لیے لڑتا رہے گا وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ

کراچی : وفاق سندھ کو اس کے آئینی حق کے مطابق گیس فراہم کرے اور سندھ اپنے آئینی حق کے لیے لڑتا رہے گا۔ سندھ میں بیرونی سرمایہ کاری میں اولین ترجیح ہے، سندھ کومعاشی مرکز بنانے کے لیے کامیابی حاصل کریں گے، کراچی میں متعدد ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، بیرونی سرمایہ کاروں کیلئے رجسٹریشن کا عمل آسان بنا رہے ہیں، سندھ نے کاروبار آسان بنانے کیلئے بہت سے اقدامات کیےہیں اب پاکستان کو بھی کاروبار آسان بنانے کا ہدف پورا کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے آج کراچی کی ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ سندھ ڈوئنگ پورٹل بزنس رفارمز ایگزی بیشن تقریب سے بطور ہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ کی آمد پر صوبائی وزراء سعید غنی، مکیش کمار چاولا، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم، سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے افسران و دیگر نے انکا استقبال کیا۔ تقریب میں وزیراعظم کے مشیر تجارت رزاق داؤد اور عالمی بینک کے حکام بھی شریک ہوئے۔ نمائش میں ملک خصوصاً سندھ میں تجارت کے فروغ اور اصلاحات پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ بزنس رجسٹریشن پورٹل کا بھی افتتاح کیا اور چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم نے اپنے خطاب میں سندھ بزنس رجسٹریشن پورٹل کے حوالے سے مدوبین و شرکاء کو آگاہ کیا۔ ایزی آف بزنس ایک انڈیکس ہے جو ورلڈ بینک ہر سال پیش کرتی ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر کے ہمراہ ایزی آف ڈوئنگ بزنس کا پورٹل افتتاح کیا جس پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور سندھ بورڈ آف روینو نے معاہدات پر دستخط کیے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے پنجاب حکومت کے محکمہ آئی ٹی کے شمس شیخ کی خدمات کو سراہا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ اس وقت دنیا تیزی سے تبدیل ہورہی ہے، اس تبدیلی میں معیشت کا بہت بڑا کردار ہے، تیزی سے تبدیل ہوتی دنیا میں ہم مواقع ضائع نہیں کرسکتے، ہمیں مل کر انسانی ترقی پر خصوصی توجہ دینی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ورلڈ بینک کی ڈوئنگ بزنس رپورٹ سرمایہ کاروں کے لیے بہت اہم ہے، ایسی رپورٹ کو دیکھ کر سرمایہ کار ملکوں کا چناؤ کرتے ہیں، سیاسی طور پر اس انڈیکس کو بھی بہت اہمیت حاصل ہے، اس انڈیکس سے دنیا کے ملکوں میں سرمایہ کاری لانے کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کیلئے مقابلہ کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عالمی بینک کی انڈیکس میں گذشتہ سال پاکستان نے 11 پوائنٹ اصلاحات ہوئیں جس میں کراچی کا 65 فیصد جبکہ لاہور کا 35 فیصد کردار شامل ہے اور میری حکومت اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ پرائیویٹ سرمایہ کار ہی عوام میں خوشحالی پیدا کرتا ہے جسکو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نیں سرمایہ کاروں کو آسانیاں فراہم کرنے کےلیے مجوزہ پورٹل کا افتتاح کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کاروبار اور سرمایہ کاری میں آسانی سے مقامی اور عالمی سرمایہ کار مستفید ہونگے، ہم سرمایہ کار کے لیے مزید آسانی پیدا کرنے کے لیے مزید اصلاحات لائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ سرمایہ کاری سے حکومتی روینیو پیدا ہوتا ہے جس سے باہنر ورک فورس سامنے آتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وفاق سندھ کے وسائل پورے کرے ہم اس عالمی بینک رپورٹ میں ٹاپ ٹین پر آجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سندھ نے کاروبار آسان بنانے کے لئے بہت سے اقدامات کیے ہیں، پاکستان کو کاروبار آسان بنانے کا ہدف پورا کرنا ہوگا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سرمایہ کاری میں اضافہ اور عوام کی خوشحالی کے لئے کام میں بین الصوبائی اور وفاقی حکومت کا ایک دوسرے کا تعاون ناگزیر ہے، دی سندھ بزنس رجسٹریشن پورٹل کے ذریعے کاروباری حضرات اپنی تمام رجسٹریشن چار صوبائی محکموں انڈسٹریز، لیبر ایس ای ایس ایس، ایکسائیز اینڈ ٹیکسیشن آن لائن کر سکیں گے اور انشاء اللہ بہت جلد اس پورٹل سے تمام صوبائی محکمات منسلک ہونگے جس سے لائسنس، پرمٹس، رجسٹریشن اور این او سیز آن لائن ملیں گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مجوزہ پورٹل میں معاون پر عالمی بنک کے کنٹری ڈائریکٹر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ورلڈ بینک ٹاپ 20 بزنس سٹیز انیشیٹو 2020 پروگرام کو سراہااور کہا کہ سندھ بھی اس ٹاپ 20 بزنس سٹیز کے لیے باقائدہ مقابلہ کرے گا۔
تقریب سے زبیر موتی والا نے پرائیوٹ سیکٹر کی جانب سے اپنے خطاب میں کہا کہ آج سندھ حکومت نے بہت ہی اہم کام کردکھایا ہے، مجوزہ پورٹل سے کاروباری طبقے کو بہت سی سہولیات ملیں گی جس سے سرمایہ کاری کرنے میں مدد ہوگی۔
وفاق سے مطالبات:
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ اگلے سی سی آئی اجلاس میں وفاق سے گیس کے معاملے پر بات کریں گے، وفاق سے درخواست ہے کہ سندھ کو اس کے آئینی حق کے مطابق گیس فراہم کرے، سندھ اپنے آئینی حق کے لیے لڑتا رہے گا، مشترکہ مفادات کونسل میں گیس کے مسئلے پر بات کریں گے۔ سندھ حکومت چاہتی ہے کہ فیس فیلڈ کے قریبی علائقوں کو گیس دی جائے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی سمیت دیگر شہروں کو گیس، بجلی اورپانی دینے سے کاروباری لحاظ سے پاکستان ٹاپ 10 ممالک کی فہرست میں شمار ہوجائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں