ایسا وزیر آیا ہے نہ آئے گا

سعید غنی کا شمار ویسے تو پاکستان پیپلز پارٹی کے نہایت سرگرم فعال اور ذہین رہنماؤں میں ہوتا ہے لیکن انہوں نے بطور وزیر تعلیم ،محنت اور چیئرمین سندھ کچی آبادیز اتھارٹی اپنے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیتے ہوئے عوام میں بالعموم اور ان محکموں کے افسران اور ملازمین کے دلوں میں بالخصوص اپنے لئے نہایت عزت اور احترام کا مقام حاصل کر لیا ہے اگر آپ سعید غنی کے ماتحت محکموں کا دورہ کریں اور ان کے دفاتر میں ورکنگ اسٹائل اور صوبے کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور این اے 19 کے مختلف شعبوں کی ترقی اور کامیابی کے حوالے سے خود غیرجانبداری سے جائزہ لیں

اور عوام الناس سے بات کریں یا افسران اور ملازمین سے وزیر موصوف کی کارکردگی کے بارے میں معلومات حاصل کریں تو آپ کو مجموعی طور پر نہایت تسلی بخش اور اطمینان بخش جوابات ملیں گے لوگ آپ کو تعریف کرتے ہوئے نظر آئیں گے اور اس بات کا اعتراف کریں گے کہ شکایات کا ازالہ ہو رہا ہے اور ان کے معاملات میں نمایاں فرق اور بہتری آئی ہے اس کا ثبوت ہے کہ افسران اور ملازمین کے ساتھ ساتھ ان محکموں مخالف کرنے والے عوام بھی صوبائی وزیر کی کارکردگی کو سراہتے ہیں اور انہیں اعتماد ہے کہ آنے والے دنوں میں ان محکموں کی کارکردگی اور نتائج مزید مثبت اور شاندار ہو جائیں گے ۔محکمہ محنت میں سوشل سیکورٹی کے دفاتر کا جائزہ لیں اسپتالوں میں چلے جائیں آپ کو وہاں پر نمایاں بہتری اور مثبت تبدیلی نظر آئے گی لوگ خود آپ کو بتائیں گے کہ صوبائی وزیر سید غنی اکثر یہاں پر غیراعلانیہ دورہ کرتے ہیں بغیر پروٹوکول کے پہنچ جاتے ہیں اور سادگی سے آکر صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں وہ سیاسی کے دفاتر میں بھی آتے ہیں اور فیلڈ میں بھی اپنے اسلاف کی کارکردگی کو چیک کرتے ہیں یہ ایک اچھی روایت ہے اور اس کے اچھے اور مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں سعید غنی اپنے والد عثمان غنی کی طرح ایک سادہ اور مخلص انسان ہے وہ اپنے صوبے اور عوام کی ترقی اور بھلائی کے لئے دن رات سرگرم اور فعال کردار ادا کر رہے ہیں ۔صوبائی حکومت کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں یقینی طور پر وسائل محدود اور مسائل لامحدود ہیں لیکن ہمت اور عزم جوان ہے اس لیے یہ توقع ہے کہ سعید غنی کی سربراہی میں ان کے محکموں میں مزید اچھی خبریں سامنے آتی رہیں گی ۔مزدوروں اور محنت کشوں کے لیے جتنے نمایاں اقدامات سعید غنی کے دور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے کیے ہیں ان کی ماضی میں مثال نہیں ملتی اسی لئے مزدور اور محنت کش طبقہ بھی سعید غنی کے لئے دعا گو ہے آنے والے دنوں میں بے نظیر کارڈ کے ذریعے محنت کش مزدوروں کے لیے نئے وسائل اور سہولتیں فراہم کی جاسکیں گی جس کے لیے نادرا سے معاہدہ ہو چکا ہے ۔سوشل سیکورٹی کے افسران اس والے سے تیزی سے کام کر رہے ہیں ۔دوسری طرف محکمہ تعلیم میں اسکولوں اور اساتذہ کی بہتری اور بحالی کے اقدامات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے طلبہ کے لیے خصوصی سہولیات پر کام ہو رہا ہے تعلیمی نظام اور ماحول کی بہتری کے لیے نمایاں خدمات کیے گئے ہیں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی اس بات کی تعریف کی ہے کہ اب صوبائی حکومت نے ایک اسکول اپنانے کی جو پالیسی اختیار کی ہے اس کے مزید بہتر اور مثبت نتائج سامنے آئیں گے

سوشل سیکورٹی کے دفاتر میں جانے کا اتفاق ہوا تو ایسے افسران اور ملازمین بھی ملے جنہوں نے بتایا کہ وہ طویل عرصے سے سوشل سکیورٹی کے ساتھ وابستہ ہیں اور مختلف وزراء کے ساتھ کام کر چکے ہیں لیکن سعید غنی جیسا وزیر نہ پہلے کبھی دیکھا نہ آیا ۔بڑی ایمانداری سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں ایسا وزیر آیا ہے نہ آئے گا
—-Salik-Majeed—for—-jeeveypakistan.com——