کرونا وائرس کا محکمہ ایکسائز سندھ پر حملہ ۔اسسٹنٹ ایکسائز افسر کراچی کے ایک اسپتال میں انتقال کر گیا

کرونا وائرس کا محکمہ ایکسائز سندھ پر حملہ ۔اسسٹنٹ ایکسائز افسر کراچی کے ایک اسپتال میں انتقال کر گیا۔اسسٹنٹ ایکسائز افسر کے انتقال کے بعد محکمہ ایکسائز کے افسران اور ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔ماس پہننے اور ایس او پی پر عملدرآمد کے حوالے سے سختی برتنے کا فیصلہ ۔روزانہ بڑی تعداد میں لوگ محکمے کا سائز کے دفاتر کا رخ کرتے ہیں ۔نیٹ سائنس کے ذرائع کے مطابق محکمہ کا اسسٹنٹ ایکسائز افسر وشنداس کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد کراچی کے مقامی اسپتال میں زیر علاج تھا اور گزشتہ روز انتقال کر گیا ہسپتال سے اس کی ڈیڈ باڈی کو آبائی علاقے میرپور خاص میں بھیج دیا گیا ۔وشنداس کے کرونا وائرس کا شکار بننے کی خبر کے بعد محکمہ ایکسائز کے افسران اور ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔واضح رہے کہ سرکاری محکموں میں کرونا وائرس سے بچاؤ کی تدابیر پر عمل درآمد کی صورتحال زیادہ تسلی بخش نہیں ہے اور وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ بھی عدم اطمینان کا اظہار کر چکے ہیں


محکمہ ایکسائز کے نئے سیکریٹری لئیق احمد کو محکمے میں ایس او پی پر عملدرآمد کے حوالے سے آتے ہیں سخت فیصلے کرنے پڑیں گے اور افراد اور ملازمین کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے پڑیں گے

دوسری طرف محکمہ ایکسائز کے سیکرٹری کی تبدیلی کے بعد وہ افسران اور ملازمین پریشان ہوگئے ہیں جنہوں نے کچھ عرصہ قبل ہی محکمہ میں مروجہ سسٹم کے تحت مخصوس شخصیات کے ذریعے اہم عہدوں اور کاؤنٹر ز پر پوسٹنگ حاصل کی تھی ۔ان مخصوص شخصیات نے محکمہ ایکسائز کے ملازمین کی بڑی تعداد کو اگلے گریڈ اور اگلی آسامیوں پر ترقی اور تعیناتی کے سبز باغ دکھا کر

اپنی جیبیں بھی گرم کر لی تھیں۔
اس حوالے سے انسپکٹر غلام حیدر ملاح اور بعض دیگر افراد کے نام زیر گردش ہیں ۔مختلف ملازمین سے ترقی اور تعیناتی کے عوض ایک لاکھ سے ایک لاکھ 10 ہزار روپے تک وصولی کی اطلاعات ہیں ۔اب یہ ملازمین پریشان ہیں کہ کیا سیکرٹری کی تبدیلی کے بعد انہیں پرموشن ملے گی اور اگر نہیں ملے گی تو کیا یہ پیسے واپس ملیں گے یا ڈوب جائیں گے