منظورقادرکاکاکی وطن واپسی کاراستہ صاف، 20 کروڑجرمانہ کےعوض نیب کےسارےکیس ختم،

منظورقادرکاکاکی وطن واپسی کاراستہ صاف،
20 کروڑجرمانہ کےعوض نیب کےسارےکیس ختم،

کراچی زرداری کےقریبی ساتھی اورماضی کےڈی فیکٹووزیراعلی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھاریٹی کےطاقت ورکہلائےجانےوالےڈی جی منظورکاکاکی نیب سےڈیل ہوگئی 20کروڑکےعوض انہیں کلیرنس مل گئی توقع ہےکہ وہ اگلےہفتےکنیڈاسےوطن واپس پہنچ جائیں گےمنظورکاکا2008 سے2017 تک سندھ میں آصف زرداری کےسب سےزیادہ قابل اعتمادساتھی ہونےکی وجہ سےانتہائی طاقت ورشخص سمجھےجاتےتھےبعدازاں مبینہ طورپراسٹبلشمنٹ کی زرداری سےناراضگی کی سزاانہیں ملی اور ایس بی سی اے کے حاضرسروس 20 گریڈ کےافسرہونےکےباوجودانہیں ملک سےفرارہوناپڑاجس سےزرداری صاحب کوشدیدجھٹکالگاتھااوروہ ان کی شدت سےکمی محسوس کرہےتھےاب ذرائع کاکہناہے زرداری اوراسٹبلشمنٹ کےدرمیان ہونےوالی ڈیل کےنتیجہ میں ملک ریاض کےبیٹےکےبعدیہ دوسری بڑی ڈیل ہےجس سے آصف زرداری کوسیاسی طورپرنہ سہی انتظامی اور ان کےمخصوص کاروباری اندازکوزبردست تقویت ملےگی اورزرداری صاحب کےسیاسی مخالفین دعواکرہےہیں کہ ان کےنزدیک ایسےدوستوں کی زیادہ اہمیت ہےجنھوں نےان کےکاروبارکوسپورٹ کیاان کادعواہےکہ اسی لئے اسٹلشمنٹ سےڈیل میں خورشید شاہ یااپنےدوسابق وزرائےاعظم کوکلیرکروانےکی بجائےزرداری کےکاروباری دوست ہی ان کی پہلی ترجیح رہےمنظورکاکا10 سال تک صوبےکےڈی فیکٹو وزیراعلی سمجھےجاتےرہے اوران جیسااعتماد زرداری صاحب کے دیگردوستوں کوکم ہی نصیب ہواسیاسی ذرائع کادعوای ہےکہ پی ڈی ایم کےجلسوں اوراس میں نوازشریف کےکھلےالزامات سےاسٹبلشمنٹ پریشان تھی

جس سےملکی سیاست کےسب سےشاطرکھلاڑی آصف زرداری نےفائدہ اٹھانےکافیصلہ کیااورنواز شریف کی کراچی جلسےمیں تقریرر اوربلاول کوکوئٹہ جلسےمیں شرکت سےروک کردانہ ڈالاجس میں وہ کامیاب ہوگئےجبکہ اسٹبلشمنٹ کوبھی پی ڈی ایم کےدوسرے بڑے پارٹنرکواپنی چال پرکھلنے پرراضی کرکےبڑی کامیابی ملی ہے نیب کی جانب سے28 اکتوبرکو زین ملک اورمنظورکاکاکےخلاف ریفرنسزختم کرنےکافیصلہ انتہائی اچھی شہرت کےحامل نیب کےڈپٹی چیرمین حسین اصغرکی صدارت میں ہونےوالےاجلاس میں کیاگیااجلاس میں پراسیکیوٹرسیداصغرحیدر، ظہیرشاہ اورعرفان نعیم منگی بھی شریک تھےاورانھوں نےریفرنس نیب عدالتوں سےواپس لینےکافیصلہ کیااجلاس میں بحریہ ٹائوں کےزین ملک کےخلاف ایف آئی اے کی ایف آئی آر نمبر04/20180،پنک ریزیڈنسی اوردیگرکےریفرنس نمبر4/2019،بینکنگ کورٹ اوردیگر5ریفرنسزواپس لے کر ان پر9ارب کےلگ بھگ جرمانہ عائدکیاگیاہےجبکہ منظورقادرکاکاپرریفرنس نمبر14/2019 میں 20 کروڑ جرمانہ کےعوض انہیں آزادی سےجینےکاحق دیدیاگیاہے واضع رہےکہ منظور قادرپرکرپشن کاکوئی کیس ثابت نہ ہونےپرنیب کےتفتیشی افسران نےمتعدد بلڈرز کوبلاکرمبینہ ڈرادھمکاکررشوت کے


بیانات لئےاورریفرنس دائرکردئے تھےجبکہ سپریم کورٹ نےمنظورکاکاکے دورپرسنگین اعتراضات بھی اٹھائےتھےاورنیب کوان کےخلاف کاروائی کی ہدایت کی تھی منظورکاکاکے مخالفین ان پرسنگین الزام یہ لگاتے ہیں کہ کراچی کی بیشر رہائشی آبایوں کوکمرشل کیاتھااوران پرشہری ادارے الزام لگاتےہیں کہ ان کےدورمیں اندھادھندہونےوالےکمرشل پلازوں سےشہرکاانفرااسٹرکچربری طرح متاثرہوامگرانھوں نےایساکرنےسےپہلےسندھ کابینہ سےاس کی باقاعدہ منظوری لی تھی اورقانون سازی کےبعدہی انہوں نے اختیارات کاستعمال کیاتھاجس کی وجہ سےوہ نیب کےشکنجے سےبچےرہےتاہم ایک کمزور ریفرنس میں وہ نامزد تھےجس سے کلیرہونےکےلئے انھوں نےاپنی بقیہ ملازمت کی قربانی دی ان کےقریبی ذرائع کاکہناہےکہ وہ وطن واپس لوٹ کراب سندھ بلڈنگ میں اپناعہدہ تونہ سنبھال سکیں گےالبتہ بلاول ہائوس میں بیٹھ کرمخصوص سسٹم کوچلائیں گےجس کےلئےان کاانتخاب کیاگیاہے۔