اسلام آباد میں ٹیلی کام کمپنی جاز کا دفتر کیوں سیل کیا گیا؟

پاکستان میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 25 ارب ڈالر سے زائد کے ٹیکس کی عدم ادائیگی پر ٹیلی کام کمپنی موبی لنک کا اسلام آباد کا ہیڈ آفس سیل کر دیا ہے جو ملکی تاریخ میں ٹیکس عدم ادائیگی کے بڑے کیسز میں شمار ہوتا ہے۔
تاہم اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے جاز اور موبی لنک کے نام سے مشہور کمپنی پاکستان موبائل کمیونیکیشن لمیٹڈ کی ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ٹیکس کی یہ رقم چونکہ ان کے ٹاورز کی اپنی ہی ذیلی کمپنی کو فروخت پر لگائی گئی ہے اس لیے یہ واجب الادا نہیں۔
بدھ کو ایف بی آر کے ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو اسلام آباد احمد شکیل بابر کی جانب سے کمپنی کے پرنسپل آفیسر عامر اعجاز حفیظ ابراہیم کو نوٹس جاری کیا گیا کہ وہ 25 ارب 39 کروڑ روپے انکم ٹیکس کی واجب الادا رقم دن ایک بجے تک جمع کروادیں ورنہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مزید پڑھیں

آئی فونز کو سست کرنے پر ایپل کو جرمانہ

پاکستان میں فائیو جی انٹرنیٹ سروس کب؟

کیا آئی فون 12 انگلیوں کو ’زخمی‘ کر رہا ہے؟

انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت جاری نوٹس میں کہا گیا کہ یہ رقم سال 2018 کے ٹیکس کی مد میں واجب الادا ہے جس میں 22 ارب ٹیکس اور تین ارب کے قریب جرمانہ بھی شامل ہے۔
رقم کی عدم ادائیگی پر بدھ کی شام ہی احمد شکیل بابر کے دستخطوں سے ایف بی آر کا آرڈر جاری ہوا جس پر ٹیکس کی ادائیگی تک موبائل کمپنی کے اسلام آباد میں واقع مین بزنس آفس کو سیل کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔ آرڈر کے مطابق پاکستان موبائل کمیونیکشن لمیٹیڈ نے جان بوجھ کر انکم ٹیکس ادا نہیں کیا اور اس کے لیے غیر قانونی عذر پیش کیے اور قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔
تاہم اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر جاز کی ترجمان عائشہ سروری نے تصدیق کی کمپنی کو ایف بی آر کی جانب سے نوٹس ملا ہے اور اس کا دفتر جمعرات کو بھی تاحال سیل ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جاز نے قانونی تشریح کی بنیاد پر اپنا واجب الادا ٹیکس جمع کروا دیا تھا۔

ایف بی آر کے مطابق کمپنی کے ذمے 25 ارب روپے ٹیکس واجب الادا ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

’ہم اس کا دوبارہ جائزہ لیں گے اور اپنی قانونی ذمہ داریوں کے تحت اقدامات اٹھائیں گے اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کرکے اس مسئلے کے جلد حل کی کوشش کی جائے گی۔
تاہم اردو نیوز کے ایک سوال پر عائشہ سروری کا کہنا تھا کہ متنازعہ ٹیکس کی رقم کا اس رقم سے کوئی تعلق نہیں جو جاز کے صارفین سے ٹیکس کی مد میں وصول کی جاتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں کمپنی نے 250ارب روپے ٹیکس جمع کروایا ہے۔
جاز کی ترجمان عائشہ سروری نے اردو نیوز کو بتایا ہے کہ مرکزی دفتر سیل ہونے کے باجود جاز کی سروس پرکوئی اثر نہیں پڑا اور وہ بدستور جاری ہے۔
انہوں نے وضاحت کی ہے کہ ایف بی آر کے موجودہ ٹیکس نوٹس کا تعلق جاز کے ٹاورز کی اپنی ہی ذیلی کمپنی ’دیودار پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کو فروخت سے متعلق ہے۔ ایف بی آر کا موقف ہے کہ ٹاورز کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس قابل ادا ہے جبکہ موبی لنک کا موقف ہے کہ چونکہ ٹاور اپنی ہی ذیلی کمپنی کو بیچے گئے اس لیے اس کی فروخت پر ٹیکس واجب الادا نہیں ہوتا۔
ترجمان کے مطابق یہ قانونی تشریح کا معاملہ ہے۔ عائشہ سروری کا کہنا تھا کہ جاز ایک قانون پر عمل کرنے والا ذمہ دار کاروباری ادارہ ہے۔ اس نے گزشتہ 25 برسوں میں پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاز کے حوالے سے تبصرے جاری ہیں۔ صحافی عمر قریشی نے لکھا کہ موبی لنک جاز استعمال کرنے والے بہت سارے لوگ ناقص سروس یا سروس کی عدم دستیابی کی شکایت کر رہے ہیں۔ کیا یہ حالیہ ٹیکس تنازعے اور ان کی آفس سیل ہونے کی وجہ سے ہے؟

فیصل ایچ نقوی نامی صارف نے لکھا ہے کہ موبی لنک پاکستان کے بڑے ٹیکس ادا کرنے والے اداروں میں شامل ہے۔ اگر ایف بی آر ان کے ساتھ اس طرح کا سلوک کر رہا ہے تو اندازہ کریں کہ عام لوگوں کے ساتھ ان کا سلوک کیا ہوگا؟ اگر اس سے موبی لنک نے کاروبار بند کر دیا تو کیا ہوگا؟ اسکے چار کروڑ صارفین کا کیا ہوگاَ؟ پھر پوچھتے ہیں کہ ہماری معیشت کیوں خراب ہے؟

ٹوئٹر پر کئی صارفین نے سوال کیا کہ کیا موبی لنک نے انہیں جو ٹیکس سرٹیفیکیٹ جاری کیے تھے وہ بھی اصلی نہیں تھے؟ تاہم کمپنی ترجمان وضاحت کی ہے کہ صارفین سے حاصل کردہ ٹیکس ایف بی آر میں جمع کروایا گیا ہے۔
متعدد بار رابطوں اور ٹیکس میسجز کے باجود ایف بی آر کے ترجمان ندیم رضوی نے اس حوالے سے جواب نہیں دیا

وسیم عباسی -اردو نیوز، اسلام آباد