میڈیکل ٹیسٹ پالیسی میں تبدیلی: ’ڈیڑھ لاکھ طلبہ کا مستقبل داؤ پر ہے‘


انٹری ٹیسٹ میں حصہ لینے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ صوبائی یونیورسٹیوں کی بجائے نیشنل یونیورسٹی کا سلیبس انٹری ٹیسٹ کے لیے لازمی قرار دیے جانے سے صرف فیڈرل، آرمی پبلک یا فوج کے دیگر کالجز کے طلبہ کو ہی فائدہ ہوگا۔

ارشد چوہدری نامہ نگار، لاہور @ArshdChaudhary
————————————-

حال ہی میں پاکستان میڈیکل کونسل نے ملک بھر کی میڈیکل یونیورسٹیوں کو ٹیسٹ لینے سے روک کر نئی پالیسی ترتیب دی ہے۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو تحلیل کر کے پاکستان میڈیکل کونسل (پی ایم سی) میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

یہ نئی پالیسی پی ایم سی کی جانب سے سامنے آئی ہے جس کے تحت چاروں صوبوں میں ڈاکٹر بننے کے خواہش مند ایف ایس سی پاس طلبہ و طالبات کے میڈیکل ٹیسٹ سینٹرلائزڈ کر دیے گئے ہیں۔

نئی پالیسی کے تحت امتحانات کا اختیار صوبوں کی بجائے پی ایم سی کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ میڈیکل ٹیسٹ لینے کے لیے صوبائی سلیبس کی بجائے پاکستانی فوج کے زیر اہتمام چلنے والی نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (NUMS) راولپنڈی کا سلیبس لازمی قرار دیا گیا۔

سلیبس تبدیل ہونے پر طلبہ نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا تو سلیبس میں تبدیلی کر دی گئی لیکن طریقہ کار برقرار رکھا گیا ہے۔

طلبہ کے مطابق دو اکتوبر سے 26 اکتوبر کے دوران چار بار سلیبس تبدیل ہو چکا ہے۔

پی ایم سی نے 25 نومبر کو انٹری ٹیسٹ لینے کا اعلان کر رکھا ہے جس پر طلبہ کا کہنا ہے کہ 19 دن پہلے سلیبس تبدیل ہونے پر ٹیسٹ کی تیاری کیسے ممکن ہے۔

ان کے مطابق پرانا طریقہ کار تبدیل کر کے انہیں نئی مشکل میں ڈال دیا گیا ہے نیز یہ بھی معلوم نہیں کہ ٹیسٹ کا طریقہ کار کیا ہوگا اور سوالیہ پرچے کس طریقے پر بنائے جائیں گے۔

انٹری ٹیسٹ میں مشکلات اور تبدیلی:

ایف ایس سی پاس کرنے کے بعد میڈیکل انٹری ٹیسٹ کی امیدوار رمشہ غفار نے کہا کہ پی ایم سی نے چار بار سلیبس تبدیل کیا اور نیشنل یونیورسٹی کا سلیبس لاگو کر دیا جبکہ چاروں صوبوں کی یونیورسٹیاں الگ سلیبس پڑھاتی ہیں۔ ان یونیورسٹیز میں سوالوں کے دیے گئے جوابات نیشنل یونیورسٹی کے سلیبس میں مختلف ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ جو سوالیہ پرچے میں 70 فیصد تھیوری اور 30 فیصد کنسیپچوئل ہوگا وہ کس طریقہ کار کے تحت شامل کیا جائے گا۔

رمشہ نے کہاکہ تمام طلبہ نے اپنے اپنے صوبوں کی یونیورسٹیز کے سلیبس سے تیاری کر رکھی ہے اب انیس دن میں نیشنل یونیورسٹی کے سلیبس کی تیاری کیسے ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ایم سی نے بار بار سلیبس تبدیل کر کے بھی طلبہ کے مسائل حل نہیں کیے۔

انٹری ٹیسٹ میں حصہ لینے والے ایک اور امیدوار حسان بھٹی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ طلبہ کی جانب سے اس پالیسی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ایم سی نے انٹری ٹیسٹ میں شفافیت کو ختم کر دیا کیونکہ ماضی میں جوابی پرچوں کے لیے کاربن پیپر دیا جاتا تھا، حل شدہ پرچہ کی ایک کاپی طلبہ کو ملتی تھی تاکہ نتائج کے وقت تصدیق ہو کہ ان کے نمبر حل شدہ پیپر کے مطابق ہیں۔

حسان بھٹی نے کہا کہ صوبائی یونیورسٹیوں کی بجائے نیشنل یونیورسٹی کا سلیبس انٹری ٹیسٹ کے لیے لازمی قرار دیے جانے سے صرف فیڈرل، آرمی پبلک یا فوج کے دیگر کالجز کے طلبہ کو ہی فائدہ ہوگا۔

درخواست میں اپیل کی گئی ہے کہ پی ایم سی کی جاب سے ری ٹیسٹ کی تاریخ کو تبدیل کر کے طلبہ کو تیاری کا مزید وقت دیا جائے اور 15 نومبر کو ہونے والے انٹری ٹیسٹ موخر کیے جائیں۔

مرکزی پالیسی اور سلیبس میں تبدیلی کیوں؟

یہ سوال جب ترجمان یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز محمد عاطف سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ کابینہ نے قانون میں تبدیلی کر کے پی ایم ڈی سی تحلیل کر کے پی ایم سی تشکیل دی اور میڈیکل انٹری ٹیسٹ صوبائی یونیورسٹیوں کی بجائے پی ایم سی کے زیر اہتمام لینے کے لیے مرکزی پالیسی لاگو کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی نئی پالیسی کے تحت نیشنل میڈیکل یونیورسٹی کا سلیبس لازمی قرار دیا گیا لیکن جب طلبہ نے احتجاج کیا اور ردعمل آیا تو اس سلیبس میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔

’پہلی بار نئی پالیسی کے تحت اس بار انٹری ٹیسٹ لیے جا رہے ہیں تو کچھ مشکلات تو پیش آئیں گی۔‘

محمد عاطف نے بتایا کہ پی ایم سی نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے جو انٹری ٹیسٹ لے گی۔ اس کمیٹی میں چاروں صوبائی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز بھی شامل ہیں۔

طلبہ رہنما عمار علی جان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد طلبہ انٹری ٹیسٹ کے امیدوار ہیں لیکن حکومت کی لاپرواہی کے باعث بچے مشکلات کا شکار ہیں اور والدین بھی بچے بچیوں کا مستقبل داؤ پر لگنے کے باعث پریشان ہیں۔

پنجاب اسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے سربراہ ڈاکٹر جاوید اکرم سے جب اس بارے میں رابطہ کیاگیا تو انہوں نے کہا کہ میڈیکل انٹری ٹیسٹ کی نئی پالیسی سے متعلق یو ایچ ایس کو اعتماد میں نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد بنائی گئی ہے اس سے پہلے بھی تبدیل کی گئی تھی جو عدالت نے روک دی تھی اس معاملہ میں تمام صوبائی ہیلتھ سائنسز کے اداروں کو آن بورڈ لینا چاہیے تھا تاکہ اس طرح کے مسائل پیدا نہ ہوتے۔

انہوں نے کہاکہ 70 ہزار طلبہ کا تعلق پنجاب سے ہے جو نئے طریقہ کار اور سلیبس میں تبدیلیوں سے ذہنی دباؤ میں ہیں ایک طرف ٹیسٹ کی تیاری دوسری جانب یہ پریشانی کہ سوالیہ پرچے میں سوال کہاں سے آئیں گے۔

عمار نے کہا کہ میڈیکل کی تعلیم ویسے ہی بہت مہنگی ہے اور والدین اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنے کے لیے بھاری اخراجات اٹھاتے ہیں لیکن حکومت اس معاملے کو غیر سنجیدہ لے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ پورے ملک کے طلبہ نیشنل میڈیکل یونیورسٹی کا سلیبس پڑھنے پر مجبور ہوں؟ یا مرکزی پالیسی کے تحت لاعلمی سے ٹیسٹ میں شریک ہوں؟

ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں حکومت کو سنجیدگی سے مسائل پر توجہ دینی چاہیے اور ٹیسٹ کی تاریخ موخر کر کے نئی تاریخ دی جائے نیز اس سے پہلے بچوں کے تمام تحفظات دور کیے جائیں
———–from—-IndpendentUrdu—-pages—-