پی ایس او کو پہلی سہ ماہی میں بعد از ٹیکس منافع5.1 ارب روپے رہا


کراچی ( کامرس رپورٹر )ملک کی سب سے بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنی پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)کے بورڈ آف مینجمنٹ نے مالی سال 21 کی پہلی سہ ماہی جو 30 ستمبر 2020 کو ختم ہوئی، کے دوران کمپنی بشمول ذیلی ریفائنری پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ کورونا وبا ء دنیا بھر کے لوگوں کومتاثر کر رہی ہے ۔ کورونا کی وباء کے دوران معاشی اور کاروباری دنیا کو درپیش سنگین چیلنجز کے باوجود پی ایس او تیز رفتاری سے بدلتے ہوئے حالات اور ماحول میں بھی مستحکم رہی اور کمپنی پہلی سہ ماہی کے دوران قدرتی طور پر افزائش اور بہتر مارجن حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ بورڈ کی جانب سے پی ایس او کے منافع اور کارکردگی کی تصدیق کی گئی ہے۔ کمپنی نے موٹر گیسولین کے والیوم میں 11.8 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 17.1 فیصد، وائٹ آئل میں 7.7 فیصد، بلیک آئل میں 37.8 فیصد اور لکویڈ فیولز کے والیوم میں 13.9 فیصد اضافہ دیکھا گیا جس کے نتیجے میں موٹر گیسولین کا مارکیٹ شیئر 42.1 فیصد (گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.2 فیصد اضافہ) ، ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 48فیصد (گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.5 فیصداضافہ)،وائٹ آئل میں 45.5 فیصد (گزشتہ سال کے مقابلے میں 0.4 فیصد اضافہ)، بلیک آئل میں 56.8 فیصد (گذشتہ سال کے مقابلے میں 2.8 فیصد کا اضافہ) جبکہ لکویڈ فیولز کا مارکیٹ شیئر47.9 فیصد (گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.2 فیصد کا اضافہ)ہوگیا۔والیوم میں اضافے کے نتیجے میں بعداز ٹیکس خالص منافع 5.1 ارب روپے رہا جوکہ گذشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 3.5 ارب روپے تھا۔ پی ایس او نے اگست اور ستمبر 2020 کے مہینوں کے دوران یورو 5 ہائی اوکٹین 97 اور الٹرون پریمیم یورو 5 (92 رون) کی فروخت کا آغاز کیا جس کے ذریعے کمپنی نے ماحولیاتی اسٹیورڈشپ اور کسٹمر فوکسڈ اختراعات کے اپنے سفر میں نئے سنگ میل حاصل کرلیے ہیں۔ یورو 5 معیار کے ایچ ایس ڈی کے آغاز کا منصوبہ زیر غور ہے۔ کمپنی نے مؤثر منصوبہ بندی او ر کیش فلو مینجمنٹ کے ذریعہ اپنے مالیاتی اخراجات کو کامیابی کے ساتھ واضح حد تک کم کردیا ہے جس کو پالیسی ریٹ کے اوسط میں کمی کے ذریعے مزید مدد ملی۔ زیر جائزہ مدت کے دوران، کمپنی کی مصنوعات کا حصول 40 فیصد ریفائنری سے ( 44%:پہلی سہ ماہی مالی سال 20) رہا اور انڈسٹری کی کل درآمدات کا58 فیصد ( پہلی سہ ماہی مالی سال 20 میں 54 فیصد) پی ایس او نے انتظام کیا۔ علاوہ ازیں، بنیادی انفراسٹرکچر کے منصوبوں پر خصوصی توجہ برقرار رکھی گئی ہے جس میں 203 ہزار میٹرک ٹن کے نئے اسٹوریجز ، 176 ہزار میٹرک ٹن مرمت شدہ اسٹوریجز اور 47.3 کلو میٹر پائپ لائن کے منصوبے شامل ہیں۔ پاور سیکٹرسے واجبات میں2.3 ارب روپے کی کمی ہوئی جبکہ سوئی نادرن گیس کمپنی لمیٹڈ پر واجبات تا حال تشویش کا باعث ہیں۔ 30 ستمبر 2020 تک ایس این جی پی ایل کی جانب کمپنی کے 68 ارب روپے بلین روپے واجب الادا تھے اور یہ رقم کمپنی کی مالی استعداد کار میں رکاوٹ کا باعث بن رہی ہے ۔ انتظامیہ بقایا جات کی جلد از جلد وصول یابی کے حوالے سے متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میںہیں۔ مذکورہ نتائج کمپنی کے متنوع شعبہ جات میں پی ایس او کی فعالیت اور استحکام کا مظہر ہیں۔ ماحول کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ کمپنی پائیدار ترقی اور منافع کے لئے بدستور پرعزم ہے