کیپٹن صفدر کی گرفتاری اور رہائی کے بعد کی صورت حال

یاسمین طہٰ
———————
گذشتہ ہفتے کی دلچسپ خبر یہ ہے کہ سندھ پولیس کو شکایت ہے کہ ان پر دباؤ ڈالا گیا جس سے پولیس کا مورال پست ہوگا،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت مورال پست نہین ہوتا جب مبینہ طور پر زمینوں پر قبضے اور دیگر سنگین جرائم میں سندھ پولیس کا نام آتا ہے،پولیس کو یہ بھی شکایت ہے کی افسران پر دباؤ ڈالا گیا،کیا سندھ پولیس کے افسران اس بات سے انکار کرسکتے ہیں کہ سندھ پولیس پر مبینہ طور پر ایک سیاسی جماعت کی زیر اثر رہنے کا الزام لگا یا جاتا رہا ہے۔ کیپٹن صفدر کی گرفتاری اور رہائی کے بعد کی صورت حال کے بعد بلاول کے ترجمان مصطفیٰ کھوکر ایک چینل پر ڈ ی جی رینجرز سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے تھے اور دوسری طرف بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ انھیں رینجرز سے کوئی گلہ نہیں۔کراچی میں کرونا کے مریضوں میں اضافہ رپورٹ کیا جارہا ہے اور لاک ڈاؤن کے ساتھ ساتھ شند تعلیمی اداروں اور میرج حال کی بندش بھی کی گئی ہے اس صورتحال میں اپوزیشن کی حکومت مخالف جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ کے زیر اہتمام دوسرا عوامی جلسہ 18اکتوبر کوباغ جناح میں ہوا،جس میں سندھ بھر سے پی پی پی اور جمیعت علماء اسلام کے کارکنان کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔کراچی میں ہونے والے جلسے میں کراچی والوں کی تعداد نسبتاً کم رہی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز لاہور سے


اس جلسے میں شرکت کے لئے جب کراچی پہونچی تو ائیر پورٹ پر مریم کے ابا چور ہین کہ نعروں سے ان کا استقبال ہوا ۔پیپلزپارٹی جلسے کی میزبان تھی،غالباً ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہی پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہاکہ اردو نہ ہماری زبان ھے نہ قومی زبان۔ سندھی قومی زبان ہے اور باقی علاقائی زبانیں اھم ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ یہ بات اردو میں کہنا ان کی مجبوری تھی۔مریم نواز کے ساتھ قائد کے مزار پر حاضری کے دوران کیپٹن صفدر نے شدید ہلڑ بازی کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں انہیں مزار قائد ایکٹ کی خلاف ورزی پر کراچی میں گرفتار کیا گیا اور اسی روزان کی رہائی بھی عمل میں آئی۔اس حوالے سے سندھ حکومت وپی پی قیادت نے گرفتاری سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ قبل ازیں مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما وسابق گورنر سندھ محمد زبیر کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے آگاہ کیا کہ آئی جی سندھ کو رینجرز نے اغوا کرلیا تھا جہاں اسے سیکٹر کمانڈر کے دفتر لایا گیا تھا جہاں ایڈیشنل آئی جی پہلے ہی موجود تھا اور کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے احکامات جاری کرنے پر مجبور کیا گیا۔ جب کہ ایک ٹویٹ میں ترجمان سندھ پولیس نے کہا ہے کہ رہنما مسلم لیگ ن کیپٹن (ر)صفدر اعوان کی گرفتاری قانون کے مطابق ہوئی ہے،ادھر وزیراطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا مزار قائد پر جو واقعہ پیش آیا وہ نہیں ہونا چاہئے تھا، گرفتاری میں کون ملوث ہے مکمل انکوائری ہوگی، تاہم آئی جی اغوا ہوئے یا نہیں اس واقعے کا علم نہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی پریس کانفرنس میں واضح الزامات لگائے گئے کہ کیپٹن صفدر کے خلاف مقدمہ سیاسی عزائم پر مبنی تھا جبکہ بلاول زرداری نے کہا کہ اس سب کے لیے پولیس افسران پر شدید دباؤ ڈالا گیا۔اس کے بعد پولیس افسران نے ’ایک فورس‘ کا ثبوت دے کر کسی بھی قسم کے دباؤ سے انکار کرتے ہوئے ایک ساتھ چھٹی جانے کا فیصلہ کر لیا۔کاش یہ غیرت اس وقت جاگتی جب کراچی میں دو سو سے زائد مزدوروں کو زندہ جلایاگیا۔ آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کی کراچی میں کیپٹن صفدرکی گرفتاری کے معاملے کی انکوائری کے بعد نوٹس اور بلاول سے ملاقات کے بعد سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران نے مشروط طور پر چھٹی کی درخواست واپس لینے کا فیصلہ کرلیا۔ دوسری جانب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کے احکامات جاری کردیئے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلاول بھٹو زرداری سے کراچی واقعے پر تبادلہ خیال بھی کیا۔سندھ اسمبلی نے سندھ کے جزائر سے متعلق حالیہ صدارتی آرڈیننس کے خلاف ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی،وفاقی حکومت کے اتحادی جی ڈی اے نے بھی متنازع صدارتی آرڈیننس کی مخالفت کی اور قرارداد پر پی پی کا ساتھ دیا جبکہ اس معاملے پر پی ٹی آئی کے ایک رکن سندھ اسمبلی شہر یار شر نے ایوان کی کارروائی کے بائیکاٹ میں حصہ نہیں لیا۔ سندھ کے جزائر سے متعلق متنازع صدارتی آرڈی نینس کے خلاف پیپلز پارٹی کی جانب سے پیش کردہ قرارداد پر پر اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہکیپٹن صفدر پر مقدمہ درج نہ کرنے کی صورت میں ایک وفاقی وزیر کی جانب سے سندھ حکومت ختم کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔اگر وہ وزیر کانام بنادیتے توان کے موقف میں جان پڑجاتی۔