سعودی عرب کی تشویش

تحریر … طارق معین

پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات نہ صرف گہرے ہیں بلکہ کئی ادوار میں مختلف معاملات پر سعودی عرب کو پاکستان کی اور پاکستان کو سعودی عرب کی مضبوط حمایت حاصل رہی ہے۔۔
خطے اور خصوصا پاکستان کی موجودہ صورت حال میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔۔سولہ سال بعد اعلی ترین سعودی شخصیت کا پاکستان کا دورہ یقینا پاکستان اور سعودی عرب دونوں کے لئے شاید وقت کا تقاضا بھی تھا۔۔۔پاکستان خطے میں اہم ترین ملک کی حیثیت اختیار کئے ہوئے ہے ۔پاک چین اورروس کے بڑھتے تعلقات خطے میں نئی تبدیلی کا آغاز ہیں ۔پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اور پاک چین اکنامک کوریڈور نے دنیا میں پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کردیا ہے۔۔۔خطے کے ممالک میں علاقائی تنازعات موجود ہیں لیکن اہم منصوبوں سے معاشی فوائد حاصل کرنے کی جستجو ان پر حاوی ہورہی ہے ۔ایسے موقع پر روایتی حریف بھارت سے تعلقات میں کشیدگی بڑھ رہی ہےجبکہ اطراف میں ایران اورافغانستان کی حکومتوں سے بھی پاکستان کے تعلقات بہت اچھے نہیں ہیں ۔۔۔دوسری جانب عرب ممالک کے اندرونی خلفشار سے سعودی عرب کو خاصی تشویش ہے۔۔۔قطر، ترکی اورایران سے سعودی عرب کے تعلقات میں تناو سےنہ صرف مسلم ممالک بلکہ خطے کی معاشی اور سیاسی صورت حال کوبھی خاصی متاثر کیاہے۔۔۔۔ سعودی عرب کو اس نازک ترین صورت حال میں پاکستان جیسے ایٹمی طاقت رکھنے والے اسلامی ملک سے اپنے تعلقات کو بہتر سے بہتر رکھنے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے ۔۔۔دوسری جانب پاکستان کی موجودہ حکومت معاشی بحران سے نکلنے کی کوشش میں مضبوط معاشی سہاروں کی تلاش میںِ ہے۔۔۔سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد پر حکومت پاکستان کو جو امیدیں وابستہ تھیں اس میں خاطر خواہ کامیابی نظر آئی ہے ۔۔۔پاکستان کو اٹھائیس کھرب روپے کی سرمایہ کاری کی نوید دی گئی ہے جو آئندہ پانچ سالوں میں کی جائے گی ۔فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب پانچ سالوں میں 21 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔۔گوادر میں 10 ارب ڈالر مالیت کی میگا ریفائنری قائم ہوگی
۔سعودی عرب کی جانب سے ادھار تیل فراہم کرنے کی صورت میں تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔۔۔ متبادل توانائی کے شعبے میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔۔سعودی فنڈ پاکستان میں 1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، پیٹروکیمیکل کے شعبے میں آئندہ تین سالوں میں 1 ارب ڈالر جبکہ زرعی اور خوراک کے شعبے میں 1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔۔۔یہ وہ پیکج ہے جس کی مفاہمتی یادداشتوں پر سعودی ولی عہد کے دورے کے موقع پر دستخط کئے گئے۔۔پاکستان کی موجودہ حکومت کو اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے سعودی عرب جیسے دیرینہ دوستوں کی ضرورت ہے لیکن خطے میں پاکستان کو اپنے مفادات کو بھی محفوظ کرنا ہے۔۔۔
سعودی عرب کی خارجہ پالیسی پر نظر ڈالیں تو وہاں خلیجی ممالک کے اتحاد، عرب ممالک اور پھر اسلامی ممالک کی یکجہتی اور سعودی عرب کی ممتاز حیثیت کو اہمیت حاصل ہے۔۔سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں عر ب اور اسلامی ممالک کی قیادت سے مضبوط رابطے قائم رکھنے اور دنیا کے دیگر ممالک سے عرب مفادات کے لئے تعلقات استوار رکھنا بھی شامل ہے۔۔۔ پاکستان سے سعودی عرب کے گہرے تعلقات کا اثر خطے کے دیگر ممالک پر بھی پڑے گا جہاں روایتی حریف بھارت خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے میں ٘مصروف عمل ہے۔۔سعودی ولی عہد پاکستان کے بعد بھارت کے دورے پر ہیں جہاں سعودی عرب سے بھارتی تعلقات کی نوعیت مختلف ہے ۔۔دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے مفادات وابستہ ہیں لیکن بھارت کے ایران سے قریبی تعلقات یقینا سعودی عرب کے لئے کچھ تکلیف دہ ہوں گے۔۔۔پاکستان ایران اور افغانستان سے تعلقات میں بہتری کےلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں دوسری جانب سعودی ولی عہد نے پاکستان اور بھارت پر مذاکرات کےذریعے معاملات کو حل کرنے پر زور دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں