ریلوے میں ایماندار افسر ایس ایس پی وارث کمال کی تعیناتی کا فیصلہ


ریلوے میں ایماندار افسر ایس ایس پی وارث کمال کی تعیناتی کا فیصلہ۔ایس پی ریلوے شہباز الہی بیرون ملک روانہ ۔شہباز الہی ایس ایس پی ریلوے کراچی تعینات تھے جن کے پاس سکھر ایس ایس پی کا چارج بھی تھا شہباز الہی کے جانے کے بعد ڈی ایس پی سکھر مختار جتوئی کے حوالے سے شکایات سامنے آرہی تھی کہ وہ ایسے سپیکر کی کرسی پر براجمان ہو کر ملازمین کو دباؤ میں لے رہے ہیں

اور بہت پسند آئی کہ آج جاری کرکے اور بعض مفادات کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں ایس پی آفس میں بیٹھ کر انہوں نے ملازمین کو ڈرایا ۔جب یہ اطلاع ڈی آئی جی ریلوے کو ملی تو انہوں نے اسپیشل چیکنگ ٹیمیں تشکیل دی شہباز الہی کی ٹرانسفر کے بعد یہ صورتحال کراچی میں پیدا ہوئیں اور کراچی میں ڈی ایس پی صاحبان ہیں ایس ایس پی کی کرسی پر بیٹھ کر من پسند ہے کماد جاری کرنے لگے

اور خوب فائدہ اٹھانے لگے ریلوے پولیس اہلکار اس صورتحال پر دلبرداشتہ ہوئے اور انہوں نے چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ کیا بعض نے چھٹیوں کی درخواستیں بھی دے دیں کیونکہ ملازمین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے صورتحال اور طرز عمل سے نوکری کرنا مشکل ہے ذرائع کا کہنا تھا کہ ریلوے افسران اور پولیس میں تناؤ کی وجہ سے صورتحال عجیب ہے کربلا زمینی صورتحال میں دل جمعی سے کام نہیں کر سکتے ۔ریلوے پولیس کی ورکنگ اور معاملات پر بری طرح اور منفی اثر پڑ رہا ہے