جدید ہائی فلیکس ماڈل کے ذریعے تعلیم کا حصول ممکن بنایا گیا ہے-“حبیب یونیورسٹی

جدید ہائی فلیکس ماڈل کے ذریعے تعلیم کا حصول ممکن بنایا گیا ہے
وبا کے بعد کا سفر، اعلیٰ علمی تجربے کے لئے جدید ترین تعلیمی ٹیکنالوجی کا استعمال
کووڈ -19 کی وباء کے باعث طلباءکو کئی بڑے چیلنجزکا سامنا کرنا پڑا۔ طویل لاک ڈاون،مقامی اور بین الاقوامی تعلیمی بورڈز کی جانب سے امتحانات کے عمل کے بارے میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال، نتائج میں تاخیر، بین الاقوامی طلبہ کو اپنے وطن واپس جانے اور انہیں آن لائن تعلیم کے ذریعے اپنے کورسز مکمل کرنے پر مجبور کرنے اور سب سے بڑھ کر اس صورتحال میں تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے سے متعلق پائے جانے والے خدشات جیسے کئی مسائل سے طلبہ کا واسطہ پڑا۔


تعلیمی اداروں کی جانب سے تدریسی سلسلے کو جاری رکھنے سے متعلق کئی حل تلاش کئی جاتے رہے، اس دوران تعلیم فراہم کرنے کے روائیتی طریقہ کار کے بجائے آن لائن تعلیم کا حصول ہی قابل عمل طریقہ کارسامنے آیا ہے تاہم اس پراب بھی غیر یقینی کے سائے منڈلاتے نظر آرہے ہیں۔
اس دوران حبیب یونیورسٹی جو لبرل آرٹس اور سائنس کی مختلف شاخوں میں چار سالہ ڈگری کا اعلیٰ تعلیمی پروگرام پیش کرتا ہے، نے وباء سے پیدا شدہ صورتحال میں فوری طور پر روائیتی طریقہ تعلیم کو آن لائن تدریس پر منتقل کیاتاکہ ڈگریوں کے حصول میں طلبہ کا قیمتی وقت بچایا جاسکے۔

اس کے ساتھ ساتھ، جامعہ نے وباء کے بعد پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے بھی مختلف آپشنز پرغور جاری رکھا جس کے نتیجے میں کورسز پڑھانے کے لئے” ہائی برڈ فلیکس ایبل ماڈل “تشکیل دیا گیا۔ یہ ماڈل امریکہ کی چوٹی کی جامعات میں اس وقت رائج ہےجس کے ذریعے طلبہ کو کلاس رومز میں تعلیم دینے ، آن لائن تعلیم کے حصول یا دونوں کے انتخاب کا موقع ملتا ہے۔


اس بارے میں جامعہ کے نائب صدر برائے اکیڈمک افئیرز ڈاکٹر کرسٹوفر ٹیلر کا کہنا ہے کہ “حبیب یونیورسٹی نے اس مقصد کے لئے ہارڈ وئیر اور سافٹ وئیر دونوں ہی شعبوں میں ضروری سرمایہ کاری کی ہے جس سے اس ماڈل کے تحت تعلیم کا حصول ممکن ہوسکا ہےتاکہ طلبہ کو وہی شاندار تعلیمی تجربہ مل سکےچاہے وہ کلاس کے اندر بیٹھ کر تعلیم حاصل کررہے ہوں یا وہ آن لائن تعلیم سے استفادہ حاصل کررہے ہوں۔”
اس ماڈل کے مزید پُر اثر ہونے کے لئے حبیب یونیورسٹی نے اس مقصد کے لئے اساتذہ کی ٹریننگ شروع کرنے کا بھی انتظام کیا ہے۔ جامعہ کے اسسٹنٹ ڈین آف انڈرگریجویٹ ایجوکیشن اینڈ ایکرڈیشن ڈاکٹر عامر حسن کے مطابق”ٹیکنالوجی کے نئے پلیٹ فارمز کی بنیاد پر ہم نے اس مقصد کے لئے اپنی فیکلٹی کے لئے ایک ماہ کی وسیع ٹریننگ کا اہتمام کیا تاکہ وہ اس کے استعمال کے انتظام کو ٹھیک طریقے سے استعمال کرسکیں۔”
اس ٹریننگ کااصل فائدہ بہرحال طلبہ ہی کو ہوگا۔ جامعہ حبیب میں ایسوسی ایٹ ڈین برائے لرننگ ، ٹیچنگ اینڈ ریسرچ ڈاکٹر انظار خالق کا کہنا ہے کہ “ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی جانب سفرشروع ہوتے ہی ہمارے طلبہ ان راستوں سے معترف ہوئے جوکبھی ہم نے سوچے بھی نہ تھے۔”
ہائی فلیکس نامی اس ماڈل کے تحت تعلیم حاصل کرنے والے ایک طالبعلم مناہل صدیقی کا کہنا ہے کہ ” حبیب یونی ورسٹی کا نیا آن لائن تعلیمی پلیٹ فارم مکمل طور پر منسلک ہے اور اس سے کبھی بھی آپ کو آن لائن کلاسز اور روائیتی کلاسز میں دی جانے والی تعلیم میں فرق محسوس نہیں ہوتا کیونکہ ان دونوں طریقہ کار کے تحت ایک ہی طرح کی تعلیم فراہم کی جارہی ہے۔”
اگرچہ ہائی فلیکس ماڈل درحقیقت کوڈ -19 سے پیدا شدہ صورتحال سے نبرد آزما ہونے کا نتیجہ تھا، لیکن نئی تعلیمی ٹیکنالوجی کے استعمال، معلمانہ جدت اور ہائی فلیکس کلاس رومز کے ذریعے حبیب یونیورسٹی کرونا وباء کے پھیلاو کے دور کے بعد نئے تعلیمی ماڈل پر منتقل ہوچکی ہے۔ہائی فلیکس ماڈل اب جامعہ کے تعلیمی نظام کا اہم حصہ بن چکا ہے اور اسی نظام کے تحت 2025 میں پاس آوٹ ہونے والی کلاسز کے لئے 25 اکتوبر سے داخلوں کاسلسلہ شروع
——Report. By irfan hyder khan.———-